شمعِ دل، شمعِ تمنا نہ جلا، مان بھی جا
تیز آندھی ہے مخالف ہے ہوا مان بھی جا
ایسی دنیا میں جنوں ایسے زمانے میں وفا
اس طرح خود کو تماشا نہ بنا مان بھی جا
کب تلک ساتھ تِرا دیں گے یہ دھندلے سائے
دیکھ نادان نہ بن ہوش میں آ مان بھی جا
شمعِ دل، شمعِ تمنا نہ جلا، مان بھی جا
تیز آندھی ہے مخالف ہے ہوا مان بھی جا
ایسی دنیا میں جنوں ایسے زمانے میں وفا
اس طرح خود کو تماشا نہ بنا مان بھی جا
کب تلک ساتھ تِرا دیں گے یہ دھندلے سائے
دیکھ نادان نہ بن ہوش میں آ مان بھی جا
شدید پیاس تھی پھر بھی چُھوا نہ پانی کو
میں دیکھتا رہا دریا! تِری روانی کو
سیاہ رات نے بے حال کر دیا مجھ کو
کہ طول دے نہیں پایا کسی کہانی کو
بجائے میرے کسی اور کا تقرر ہو
قبول جو کرے خوابوں کی پاسبانی کو
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
ہوا کی زد میں چراغ امید کب نہیں تھا
مگر یہ ہاتھوں کی کپکپاہٹ
لبوں پر ریگ سکوت
آنکھوں میں آنسوؤں کے دریا
تم اپنے آبا کے کارناموں سے بے خبر ہو
میں مانتا ہوں
تم خواب حسینؑ کے وارث ہو
میں جانتا ہوں
تم پیاس کی شدت میں بھی سراب کو دریا نہیں کہنے والے
تسلیم مجھے
جس رہ میں نشیب و فراز نہیں
جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہو گا
تِرے لبوں پہ مِرے لب ہوں ایسا کب ہو گا
اسی امید پہ کب سے دھڑک رہا ہے دل
تِرے حضور کسی روز یہ طلب ہو گا
مکاں تو ہوں گے مکینوں سے سب مگر خالی
یہاں بھی دیکھوں تماشا یہ ایک شب ہو گا
یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا
میں تجھ سے جدا ہو کہ بھی تنہا نہیں ہوتا
اس موڑ سے آگے بھی کوئی موڑ ہے ورنہ
یوں میرے لیے تو کبھی ٹھہرا نہیں ہوتا
کیوں میرا مقدر ہے اجالوں کی سیاہی
کیوں رات کے ڈھلنے پہ سویرا نہیں ہوتا
آنکھوں سے خوں چھلکتا رہا، دل دُکھا رہا
اور اس پہ بھی کسی سے نہ مجھ کو گِلا رہا
یا عشق تھا اداسی و تنہائی سے مجھے
یا وقت ایک موڑ پہ صدیوں رکا رہا
کیا رات شہرِ درد میں آئی نہ تھی ہوا
کیوں چاند تیرگی کے بھنور میں پھنسا رہا
زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے
خوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سے
مدت ہوئی جینے کا احساس نہیں ہوتا
دل ان سے تقاضا کر، بیداد کریں پھر سے
مجرم کے کٹہرے میں پھر ہم کو کھڑا کر دو
ہو رسمِ کہن تازہ، فریاد کریں پھر سے
سائے
اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیں
بلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کی
دعائیں دیتے ہیں بچھڑے ہوؤں کو ملنے کی
سنوارتے ہیں خمِ گیسوئے تمنا کو
پکارتے ہیں کسی اجنبی مسیحا کو
پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات
یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات
کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں دور دور تک
چبھتی ہے سوئیوں کی طرح جب رگوں میں رات
وہ کھردری چٹانیں، وہ دریا، وہ آبشار
سب کچھ سمیٹ لے گئی اپنے پروں میں رات