Showing posts with label شہریار. Show all posts
Showing posts with label شہریار. Show all posts

Sunday, 3 April 2022

شمع دل شمع تمنا نہ جلا مان بھی جا

 شمعِ دل، شمعِ تمنا نہ جلا، مان بھی جا

تیز آندھی ہے مخالف ہے ہوا مان بھی جا

ایسی دنیا میں جنوں ایسے زمانے میں وفا

اس طرح خود کو تماشا نہ بنا مان بھی جا

کب تلک ساتھ تِرا دیں گے یہ دھندلے سائے

دیکھ نادان نہ بن ہوش میں آ مان بھی جا

Friday, 20 August 2021

شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو

 شدید پیاس تھی پھر بھی چُھوا نہ پانی کو

میں دیکھتا رہا دریا! تِری روانی کو

سیاہ رات نے بے حال کر دیا مجھ کو

کہ طول دے نہیں پایا کسی کہانی کو

بجائے میرے کسی اور کا تقرر ہو

قبول جو کرے خوابوں کی پاسبانی کو

Monday, 16 August 2021

حسین ابن علی کے وارث شہید ہوتے ہیں کربلا میں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 ہوا کی زد میں چراغ امید کب نہیں تھا

مگر یہ ہاتھوں کی کپکپاہٹ

لبوں پر ریگ سکوت

آنکھوں میں آنسوؤں کے دریا

تم اپنے آبا کے کارناموں سے بے خبر ہو

میں مانتا ہوں تم خواب حسین کے وارث ہو

 میں مانتا ہوں

تم خواب حسینؑ کے وارث ہو

میں جانتا ہوں

تم پیاس کی شدت میں بھی سراب کو دریا نہیں کہنے والے

تسلیم مجھے

جس رہ میں نشیب و فراز نہیں

Thursday, 6 May 2021

جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہو گا

 جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہو گا 

تِرے لبوں پہ مِرے لب ہوں ایسا کب ہو گا 

اسی امید پہ کب سے دھڑک رہا ہے دل 

تِرے حضور کسی روز یہ طلب ہو گا 

مکاں تو ہوں گے مکینوں سے سب مگر خالی 

یہاں بھی دیکھوں تماشا یہ ایک شب ہو گا 

Monday, 21 December 2020

یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا

 یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا

میں تجھ سے جدا ہو کہ بھی تنہا نہیں ہوتا

اس موڑ سے آگے بھی کوئی موڑ ہے ورنہ

یوں میرے لیے تو کبھی ٹھہرا نہیں ہوتا

کیوں میرا مقدر ہے اجالوں کی سیاہی

کیوں رات کے ڈھلنے پہ سویرا نہیں ہوتا

Saturday, 19 December 2020

آنکھوں سے خوں چھلکتا رہا دل دکھا رہا

 آنکھوں سے خوں چھلکتا رہا، دل دُکھا رہا

اور اس پہ بھی کسی سے نہ مجھ کو گِلا رہا

یا عشق تھا اداسی و تنہائی سے مجھے

یا وقت ایک موڑ پہ صدیوں رکا رہا

کیا رات شہرِ درد میں آئی نہ تھی ہوا

کیوں چاند تیرگی کے بھنور میں پھنسا رہا

Thursday, 3 December 2020

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے

 زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے

خوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سے

مدت ہوئی جینے کا احساس نہیں ہوتا

دل ان سے تقاضا کر، بیداد کریں پھر سے

مجرم کے کٹہرے میں پھر ہم کو کھڑا کر دو

ہو رسمِ کہن تازہ، فریاد کریں پھر سے

Wednesday, 25 November 2020

اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیں

سائے


اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیں

بلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کی

دعائیں دیتے ہیں بچھڑے ہوؤں کو ملنے کی

سنوارتے ہیں خمِ گیسوئے تمنا کو

پکارتے ہیں کسی اجنبی مسیحا کو

Thursday, 29 October 2020

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

 پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات

کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں دور دور تک

چبھتی ہے سوئیوں کی طرح جب رگوں میں رات

وہ کھردری چٹانیں، وہ دریا، وہ آبشار

سب کچھ سمیٹ لے گئی اپنے پروں میں رات

Friday, 7 February 2020

عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریں

عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریں
ساعتِ ہجر! تجھے کیسے جہانگیر کریں
پاؤں کے نیچے کوئی شے ہے زمیں کی صورت
چند دن اور اسی وہم کی تشہیر کریں
شہرِ امید حقیقت میں نہیں بن سکتا
تو چلو اس کو تصور ہی میں تعمیر کریں

بہت بھیڑ تھی جب اکیلے ہوئے

ہوا تُو کہاں ہے؟ زمانے ہوئے
سمندر کے پانی کو ٹھہرے ہوئے
لہو سب کا سب آنکھ میں آ گیا
ہرے پھول سے جسم پیلے ہوئے
جنوں کا ہر اک نقش مِٹ کر رہا
ہوس کے سبھی خواب پورے ہوئے

آندھی کی زد میں شام تمنا جلائی جائے

آندھی کی زد میں شامِ تمنا جلائی جائے
جس طرح ہو لاج جنوں کی بچائی جائے
بے آب و گیاہ ہے یہ دل کا دشت بھی
اک نہر آنسوؤں کی یہاں بھی بہائی جائے
عاجز ہیں اپنے طالعِ بیدار سے بہت
ہر رات ہم کو کوئی کہانی سنائی جائے

Monday, 1 February 2016

جہاں تک ہو گا جب تک ہو گا دل بہلائیں گے ہم بھی

جہاں تک ہو گا جب تک ہو گا دل بہلائیں گے ہم بھی
کسی دن تو تجھے بھولے سے یاد آ جائیں گے ہم بھی
کریں گے ہم کہاں تک دور کی آواز کا پیچھا
ابھی اک موڑ ایسا آئے گا، پچھتائیں گے ہم بھی
کہیں بھی زیست کے آثار دکھلائی نہیں دیتے
یہی صورت رہی جو چند دن، گھبرائیں گے ہم بھی

تجھ کو کھو کر کیوں یہ لگتا ہے کہ کچھ کھویا نہیں

تجھ کو کھو کر کیوں یہ لگتا ہے کہ کچھ کھویا نہیں
خواب میں آئے گا تُو، اس واسطے سویا نہیں
آپ بیتی پر جہاں ہنسنا تھا جی بھر کے ہنسا
ہاں جہاں رونا ضروری تھا، وہاں رویا نہیں
موسموں نے پچھلی فصلوں کی نگہبانی نہ کی
اس لیے اب کے زمینِ دل میں کچھ بویا نہیں

جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے

جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے 
کتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہے
یادوں کے سیلاب میں جس دم گھِر جاتا ہوں 
دل دیوار ادھر جانے کی خواہش ہوتی ہے
خواب دیکھنے کی حسرت میں تنہائی میری
آنکھوں کی بنجر دھرتی میں نیندیں بوتی ہے

Thursday, 28 January 2016

مشعل درد پھر اک بار جلا لی جائے

مشعلِ درد پھر اک بار جلا لی جائے
جشن ہو جائے، ذرا دھوم مچا لی جائے
خون میں جوش نہیں آیا، زمانہ گزرا
دوستو! آؤ، کوئی بات نکالی جائے
جان بھی میری چلی جائے تو کچھ بات نہیں
وار تیرا نہ مگر ایک بھی خالی جائے

دوست احباب کی نظروں میں برا ہو گیا میں

دوست احباب کی نظروں میں برا ہو گیا میں
وقت کی بات ہے کیا ہونا تھا، کیا ہو گیا میں
دل کے دروازے کو وا رکھنے کی عادت تھی مجھے
یاد آتا نہیں ۔۔ کب، کس سے جدا ہو گیا میں
کیسے تُو سنتا؟۔۔ بڑا شور تھا سناٹوں کا
دور سے آتی ہوئی ایسی صدا ہو گیا میں

سورج کا سفر ختم ہوا رات نہ آئی

سورج کا سفر ختم ہوا ۔۔۔ رات نہ آئی
حصے میں مِرے خوابوں کی سوغات نہ آئی
موسم ہی پہ ہم کرتے رہے تبصرہ تا دیر
دل جس سے دُکھے ایسی کوئی بات نہ آئی
یوں ڈور کو ہم وقت کی پکڑے تو ہوئے تھے
ایک بار مگر چھُوٹی ۔۔ تو پھر ہاتھ نہ آئی

Wednesday, 20 January 2016

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو

عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارو
میں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو
ہر ایک نقش تمنا کا ہو گیا دھندلا
ہر ایک زخم میرے دل کا بھر گیا یارو
بھٹک رہی تھی جو کشتی وہ غرقِ آب ہوئی
چڑھا ہوا تھا جو دریا ۔۔۔ اتر گیا یارو