جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہو گا
تِرے لبوں پہ مِرے لب ہوں ایسا کب ہو گا
اسی امید پہ کب سے دھڑک رہا ہے دل
تِرے حضور کسی روز یہ طلب ہو گا
مکاں تو ہوں گے مکینوں سے سب مگر خالی
یہاں بھی دیکھوں تماشا یہ ایک شب ہو گا
کوئی نہیں ہے جو بتلائے میرے لوگوں کو
ہوا کے رخ کے بدلنے سے کیا غضب ہو گا
نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے ایسا حاکم شہر
جو حادثہ نہیں پہلے ہوا وہ اب ہو گا
شہریار خان
No comments:
Post a Comment