Thursday, 6 May 2021

بات کرنے کی کب ملی مہلت

 گناہگار


بات کرنے کی کب ملی مہلت

حال اک دوسرے کا کب پوچھا

چاندنی رات کے دریچے میں

اس نے یہ ہاتھ، ہاتھ میں نہ لیا

بارشوں میں کبھی نہ بھیگے ساتھ

دھوپ میں ڈھونڈ پائے کب سایا

اس نے باندھا نہیں کوئی پیماں

میں نے مانگا نہیں کوئی وعدہ

کچھ عجب طرز کی محبت تھی

کچھ عجب طرح کا یہ عشق ہوا

یونہی اک پھول کے چٹکنے پر

طالبِ موسمِ بہار ہیں ہم

زندگی کے طویل رستے پر

اک نظر کے گناہگار ہیں ہم


ثمینہ راجا

No comments:

Post a Comment