گناہگار
بات کرنے کی کب ملی مہلت
حال اک دوسرے کا کب پوچھا
چاندنی رات کے دریچے میں
اس نے یہ ہاتھ، ہاتھ میں نہ لیا
بارشوں میں کبھی نہ بھیگے ساتھ
دھوپ میں ڈھونڈ پائے کب سایا
اس نے باندھا نہیں کوئی پیماں
میں نے مانگا نہیں کوئی وعدہ
کچھ عجب طرز کی محبت تھی
کچھ عجب طرح کا یہ عشق ہوا
یونہی اک پھول کے چٹکنے پر
طالبِ موسمِ بہار ہیں ہم
زندگی کے طویل رستے پر
اک نظر کے گناہگار ہیں ہم
ثمینہ راجا
No comments:
Post a Comment