وفا کا ذکر بھی محفل میں چِیدہ چِیدہ ہوا
تھا ایک دل وہ بھی خستہ ستم رسِیدہ ہوا
جو ذکرِ یار ہُوا، لفظ یوں اُترنے لگے
تھی ابتداء میں غزل، انتہا قصیدہ ہوا
ہم انفعال و ندامت میں منہ چُھپائے رہے
وہ سینہ تان کے دُنیا میں برگزیدہ ہوا
وفا کا ذکر بھی محفل میں چِیدہ چِیدہ ہوا
تھا ایک دل وہ بھی خستہ ستم رسِیدہ ہوا
جو ذکرِ یار ہُوا، لفظ یوں اُترنے لگے
تھی ابتداء میں غزل، انتہا قصیدہ ہوا
ہم انفعال و ندامت میں منہ چُھپائے رہے
وہ سینہ تان کے دُنیا میں برگزیدہ ہوا
کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
یادوں کے گمنام جزیروں پر
جب بیٹھوں میں تنہا
کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
سوچوں کے ٹھنڈے ساحل پہ
چلوں جو برہنہ پا
کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
شاعر تو پاگل ہوتے ہیں
کہتے ہیں لوک
یہ شاعر تو پاگل ہوتے ہیں
چلو مان لیتے ہیں
کہ شاعر پاگل ہوتے ہیں
پاگل کر دیتی ہے
بے وفائی زندگی کی
ٹپک رہا رہا ہے جو قطرہ قطرہ ہے آبدیدہ کہ شبنمی ہے
وہ ڈر رہا ہے کہ اس کا سایہ بھی عارضی ہے یا دائمی ہے
وہ اوندھی شاخیں زمیں پہ کر کے پرانے راہگیر ڈھونڈتا ہے
اداسی عزلت میں اوس بن کے ہر ایک پتے پہ آ جمی ہے
وہ شہر دل کی گلی جہاں سرخ آندھیاں خاک اڑا رہی تھیں
خزاں نوشتہ ہوئی ہے جب سے ہوا بھی تب سے تھمی تھمی ہے
جیسے سائل کو عطا ہوتے ہیں خیرات کے زخم
ویسے ورثے میں ملے مجھ کو روایات کے زخم
پہلے اجداد سے جاگیر میں تنہائی ملی
پھر تسلسل سے لگے ہیں مجھے حالات کے زخم
جو درِ یار پہ مقبول کبھی ہو نہ سکیں
وقت بھر سکتا نہیں ایسی مناجات کے زخم