Showing posts with label حنا بلوچ. Show all posts
Showing posts with label حنا بلوچ. Show all posts

Tuesday, 28 November 2023

وفا کا ذکر بھی محفل میں چیدہ چیدہ ہوا

 وفا کا ذکر بھی محفل میں چِیدہ چِیدہ ہوا

تھا ایک دل وہ بھی خستہ ستم رسِیدہ ہوا

جو ذکرِ یار ہُوا، لفظ یوں اُترنے لگے

تھی ابتداء میں غزل، انتہا قصیدہ ہوا

ہم انفعال و ندامت میں منہ چُھپائے رہے

وہ سینہ تان کے دُنیا میں برگزیدہ ہوا 

Wednesday, 22 November 2023

یادوں کے گمنام جزیروں پر کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

 کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں


یادوں کے گمنام جزیروں پر

جب بیٹھوں میں تنہا

کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

سوچوں کے ٹھنڈے ساحل پہ

چلوں جو برہنہ پا

کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

Tuesday, 14 November 2023

شاعر تو پاگل ہوتے ہیں

 شاعر تو پاگل ہوتے ہیں


کہتے ہیں لوک

یہ شاعر تو پاگل ہوتے ہیں

چلو مان لیتے ہیں

کہ شاعر پاگل ہوتے ہیں

پاگل کر دیتی ہے

بے وفائی زندگی کی

Sunday, 5 March 2023

ٹپک رہا رہا ہے جو قطرہ قطرہ ہے آبدیدہ کہ شبنمی ہے

 ٹپک رہا رہا ہے جو قطرہ قطرہ ہے آبدیدہ کہ شبنمی ہے

وہ ڈر رہا ہے کہ اس کا سایہ بھی عارضی ہے یا دائمی ہے

وہ اوندھی شاخیں زمیں پہ کر کے پرانے راہگیر ڈھونڈتا ہے

اداسی عزلت میں اوس بن کے ہر ایک پتے پہ آ جمی ہے

وہ شہر دل کی گلی جہاں سرخ آندھیاں خاک اڑا رہی تھیں

خزاں نوشتہ ہوئی ہے جب سے ہوا بھی تب سے تھمی تھمی ہے

Tuesday, 5 July 2022

جیسے سائل کو عطا ہوتے ہیں خیرات کے زخم

 جیسے سائل کو عطا ہوتے ہیں خیرات کے زخم

ویسے ورثے میں ملے مجھ کو روایات کے زخم

پہلے اجداد سے جاگیر میں تنہائی ملی

پھر تسلسل سے لگے ہیں مجھے حالات کے زخم

جو درِ یار پہ مقبول کبھی ہو نہ سکیں

وقت بھر سکتا نہیں ایسی مناجات کے زخم