بن میرے تمہیں روز خفا کون کرے گا
اے دوست! پسندیدہ خطا کون کرے گا
تم ہی نہ کرو گے تو وفا کون کرے گا
آداب محبت کے ادا کون کرے گا
خود کچھ نہ کہے کوئی بھی خواہش نہ ہو جس کی
ہر وقت تمہارا ہی کہا کون کرے گا
بن میرے تمہیں روز خفا کون کرے گا
اے دوست! پسندیدہ خطا کون کرے گا
تم ہی نہ کرو گے تو وفا کون کرے گا
آداب محبت کے ادا کون کرے گا
خود کچھ نہ کہے کوئی بھی خواہش نہ ہو جس کی
ہر وقت تمہارا ہی کہا کون کرے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حبیب کبریا ہیں نازش انساں محمدﷺ ہیں
امین و صادق و سرچشمۂ ایماں محمدﷺ ہیں
نبیوں میں مقام امتیازی ہے محمدﷺ کا
جہاں میں آخری پیغمبر دوراں محمدﷺ ہیں
محمدﷺ کا یہی احسان ہے تاریخِ انساں پر
کہ بنیادِ نزولِ مصحفِ قرآں محمدﷺ ہیں
جب ہم حدود دیر و حرم سے گزر گئے
ہر سمت ان کا جلوہ عیاں تھا جدھر گئے
اس طرح وہ نگاہ کرم آج کر گئے
دل کو سرور بادۂ الفت سے بھر گئے
وہ ہم کو اپنے دل کے ہی اندر نہاں ملا
جس کی تلاش کرتے ہوئے در بدر گئے
دل میں بندوں کے بہت خوف خدا تھا پہلے
یہ زمانہ کبھی اتنا نہ برا تھا پہلے
رام کے راج کی تصویر تھی اپنی دھرتی
مسلک فکر و عمل انس و وفا تھا پہلے
ایک انسان سے بے وجہ ہو انسان کو بیر
یہ وطیرہ کبھی دیکھا نہ سنا تھا پہلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نور ہی نور ہے تا عرشِ بریں آج کی رات
راستہ تکتے ہیں جبریلِ امیںؑ آج کی رات
ہیں وہی پھول، وہی روز کے ماہ و انجم
جانے کیوں لگتی ہے ہر چیز حسیں آج کی رات
بن کے گہوارۂ مطلوبِ دو عالم یہ زمیں
بڑھ گئی چاند ستاروں سے کہیں آج کی رات