دنیا کے ہر اک فرد کو پیغام سنا دو
یوں کارِ سلف کر کے ہر اک کام دکھا دو
اسلام کے اک سچے محافظ کی ہے پہچان
اسلام بچانے کے لیے جان لٹا دو
گر ظلم کی ہیں چاہتے یہ داد درندے
اب قتل بغاوت کا ہے انعام بتا دو
دنیا کے ہر اک فرد کو پیغام سنا دو
یوں کارِ سلف کر کے ہر اک کام دکھا دو
اسلام کے اک سچے محافظ کی ہے پہچان
اسلام بچانے کے لیے جان لٹا دو
گر ظلم کی ہیں چاہتے یہ داد درندے
اب قتل بغاوت کا ہے انعام بتا دو
اب کہاں چین سے سونے بھی دیا جاتا ہے
خواب میں آ کے میرا خون کیا جاتا ہے
اس لیے عدل کی امید نہیں ہے مجھ کو
جھوٹ کو سچ کے مقابل میں لیا جاتا ہے
وہ تو خوش ہوں گے مگر حال یہاں ہے ایسا
غم بھلانے کے لیے جام پیا جاتا ہے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
دشتِ بے سایہ میں جھلساتی ہوا سے پوچھنا
تشنگی کیا چیز ہے یہ کربلا سے پوچھتا
غیرتِ جذبات پر کیا بیتی ہے بزم میں
حرمت و توقیر کی خستہ قبا سے پوچھنا
ناز کرتے تھے کبھی میری وفاداری پر تم
کیوں ہوا میں بے وفا اپنی جفا سے پوچھنا
یہ کہاوت سمان ہے پیارے
جان ہے تو جہان ہے پیارے
پوری انسانیت ہے وحشت میں
خوف کا سائبان ہے پیارے
ہے کرونا کی جو وبا پھیلی
صرف اک امتحان ہے پیارے
کوشش بھی یہ خلافِ طبیعت کبھی نہ کی
آسان راستوں کی سیاحت کبھی نہ کی
ہم نے دلوں کو جیتا ہے حسنِ سلوک سے
تیغ و تبر کے بل پہ حکومت کبھی نہ کی
ہم پاسبان امن و اماں ہی رہے سدا
غارت گری کی ہم نے وکالت کبھی نہ
قلب کا احتجاج ہوتا ہے
اور کیا اختلاج ہوتا ہے
سب نتیجہ ہے اپنی کرنی کا
یہ جو دنیا میں آج ہوتا ہے
یہ بھی رنگت بدلتی ہے اپنی
لاش کا بھی مزاج ہوتا ہے
گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی
مجھ کو صحرا سے چمن بنتے ہوئے عمر لگی
پختگی فکر میں یک لخت کہاں آتی ہے؟
میری سوچوں کو سخن بنتے ہوئے عمر لگی
ابنِ آدم کی ہوس سے ملی صدیوں میں نجات
بنتِ حوا کو دلہن بنتے ہوئے عمر لگی
بدلنے والی ہے فضا اے دل کچھ اور دیر رُک
ہے شب کا آخری پہر اندھیرے ہوں گے زیر رک
جہانِ دل پہ روشنی بکھیرنے کے واسطے
وہ ماہتاب آئے گا ابھی نظر نہ پھیر رک
ابھی ابھی ہوا ہے عشق ابھی سے کیوں ہے مضطرب
لگے گا تیری زندگی میں بھی غموں کا ڈھیر رک
لوگ بک جاتے ہیں بے دام تمہیں کیا معلوم
یہ برائی ہے یہاں عام، تمہیں کیا معلوم
بڑھ کے اب کوئی کسی کی نہیں کرتا پُرسش
کام سے رکھتے ہیں سب کام، تمہیں کیا معلوم
دو گھڑی بام پہ آنے سے تمہارے کل شب
شہر میں اٹھا ہے کہرام، تمہیں کیا معلوم
ذکر جب بھی تیرا عنوان میں آ جاتا ہے
اک نیا جوش دل و جان میں آ جاتا ہے
ایک قطره بھی میسر نہیں ہوتا ہے کبھی
اور مے خانہ کبھی دان میں آ جاتا ہے
شام ہوتے ہی بلا ناغہ یہ بیزارگی من
رقص کرتا ہوا شمشان میں آ جاتا ہے