Showing posts with label شمشاد شاد. Show all posts
Showing posts with label شمشاد شاد. Show all posts

Monday, 10 October 2022

دنیا کے ہر اک فرد کو پیغام سنا دو

 دنیا کے ہر اک فرد کو پیغام سنا دو

یوں کارِ سلف کر کے ہر اک کام دکھا دو

اسلام کے اک سچے محافظ کی ہے پہچان

اسلام بچانے کے لیے جان لٹا دو

گر ظلم کی ہیں چاہتے یہ داد درندے

اب قتل بغاوت کا ہے انعام بتا دو

Monday, 25 April 2022

اب کہاں چین سے سونے بھی دیا جاتا ہے

 اب کہاں چین سے سونے بھی دیا جاتا ہے

خواب میں آ کے میرا خون کیا جاتا ہے

اس لیے عدل کی امید نہیں ہے مجھ کو

جھوٹ کو سچ کے مقابل میں لیا جاتا ہے

وہ تو خوش ہوں گے مگر حال یہاں ہے ایسا

غم بھلانے کے لیے جام پیا جاتا ہے

Thursday, 7 April 2022

دشت بے سایہ میں جھلساتی ہوا سے پوچھنا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 دشتِ بے سایہ میں جھلساتی ہوا سے پوچھنا

تشنگی کیا چیز ہے یہ کربلا سے پوچھتا

غیرتِ جذبات پر کیا بیتی ہے بزم میں

حرمت و توقیر کی خستہ قبا سے پوچھنا

ناز کرتے تھے کبھی میری وفاداری پر تم

کیوں ہوا میں بے وفا اپنی جفا سے پوچھنا

Monday, 7 February 2022

یہ کہاوت سمان ہے پیارے

 یہ کہاوت سمان ہے پیارے

جان ہے تو جہان ہے پیارے

پوری انسانیت ہے وحشت میں

خوف کا سائبان ہے پیارے

ہے کرونا کی جو وبا پھیلی

صرف اک امتحان ہے پیارے

Wednesday, 14 July 2021

کوشش بھی یہ خلاف طبیعت کبھی نہ کی

 کوشش بھی یہ خلافِ طبیعت کبھی نہ کی

آسان راستوں کی سیاحت کبھی نہ کی

ہم نے دلوں کو جیتا ہے حسنِ سلوک سے

تیغ و تبر کے بل پہ حکومت کبھی نہ کی

ہم پاسبان امن و اماں ہی رہے سدا

غارت گری کی ہم نے وکالت کبھی نہ

Saturday, 20 March 2021

قلب کا احتجاج ہوتا ہے

 قلب کا احتجاج ہوتا ہے

اور کیا اختلاج ہوتا ہے

سب نتیجہ ہے اپنی کرنی کا

یہ جو دنیا میں آج ہوتا ہے

یہ بھی رنگت بدلتی ہے اپنی

لاش کا بھی مزاج ہوتا ہے

Friday, 19 March 2021

گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی

 گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی

مجھ کو صحرا سے چمن بنتے ہوئے عمر لگی

پختگی فکر میں یک لخت کہاں آتی ہے؟

میری سوچوں کو سخن بنتے ہوئے عمر لگی

ابنِ آدم کی ہوس سے ملی صدیوں میں نجات

بنتِ حوا کو دلہن بنتے ہوئے عمر لگی

Wednesday, 23 December 2020

بدلنے والی ہے فضا اے دل کچھ اور دیر رک

 بدلنے والی ہے فضا اے دل کچھ اور دیر رُک

ہے شب کا آخری پہر اندھیرے ہوں گے زیر رک

جہانِ دل پہ روشنی بکھیرنے کے واسطے

وہ ماہتاب آئے گا ابھی نظر نہ پھیر رک

ابھی ابھی ہوا ہے عشق ابھی سے کیوں ہے مضطرب

لگے گا تیری زندگی میں بھی غموں کا ڈھیر رک

Monday, 30 November 2020

لوگ بک جاتے ہیں بے دام تمہیں کیا معلوم

 لوگ بک جاتے ہیں بے دام تمہیں کیا معلوم

یہ برائی ہے یہاں عام، تمہیں کیا معلوم

بڑھ کے اب کوئی کسی کی نہیں کرتا پُرسش

کام سے رکھتے ہیں سب کام، تمہیں کیا معلوم

دو گھڑی بام پہ آنے سے تمہارے کل شب

شہر میں اٹھا ہے کہرام، تمہیں کیا معلوم

Sunday, 29 November 2020

ذکر جب بھی تیرا عنوان میں آ جاتا ہے

 ذکر جب بھی تیرا عنوان میں آ جاتا ہے

اک نیا جوش دل و جان میں آ جاتا ہے

ایک قطره بھی میسر نہیں ہوتا ہے کبھی

اور مے خانہ کبھی دان میں آ جاتا ہے

شام ہوتے ہی بلا ناغہ یہ بیزارگی من

رقص کرتا ہوا شمشان میں آ جاتا ہے