Showing posts with label ماہ طلعت زاہدی. Show all posts
Showing posts with label ماہ طلعت زاہدی. Show all posts

Thursday, 31 March 2022

زندگی ریگ دہشت پہ کمھلائے گی جی نہیں مانتا

 زندگی ریگِ دہشت پہ کمھلائے گی، جی نہیں مانتا

دِل میں جراُت کبھی گھر نہ کر پائے گی، جی نہیں مانتا

میں نے مانا سمندر ہے رُت ہجر کی، پر کنارے تلک

موج کوئی مچل کر نہیں آئے گی، جی نہیں مانتا

خواب ہی کے کنارے تمنا کی پرواز ہے رات، دن

راہ ملنے کی کوئی نہ بن پائے گی، جی نہیں مانتا

Thursday, 23 December 2021

تم بن وقت یہ کیسا گزرا

 تم بِن وقت یہ کیسا گزرا

اشکوں کا اک دریا گزرا

میرا ہی گھر بھول گیا تھا

بادل قریہ قریہ گزرا

کاٹ گیا تھا زیست کا دھارا

کہنے کو اک لمحہ گزرا

Saturday, 21 August 2021

قبر پہ پھول کھلا آہستہ

 قبر پہ پھول کِھلا آہستہ

زخم سے خون بہا آہستہ

دھیان کے زینے پہ یادوں نے پھر

دیکھیے پاؤں دھرا آہستہ

کہنے کو وقت گزرتا ہی نہ تھا

اور جگ بیت گیا آہستہ

Thursday, 19 August 2021

باقی کچھ بھی رہا نہیں ہے

 باقی کچھ بھی رہا نہیں ہے

اور یہ غم بھی نیا نہیں ہے

ان آنکھوں میں خواب تھا میرا

بوجھ یہ دل سے ہٹا نہیں ہے

شوق کا دامن کیسے چھوڑوں

خون رگوں میں جما نہیں ہے

Monday, 16 August 2021

وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا

 وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا

دل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتا

ملتے ہیں بہت یوں تو جو آغوش کشا ہو

دل کے لئے وہ درد کا دھارا نہیں ملتا

اس عہد کی تصویر میں اپنا بھی لہو ہے

ڈھونڈے سے مگر نام ہمارا نہیں ملتا

Saturday, 17 April 2021

راگ ڈوب جاتے ہیں ساز ٹوٹ جاتے ہیں

 تجربے کی سرحد پر


راگ ڈوب جاتے ہیں

ساز ٹوٹ جاتے ہیں

آسماں کے گوشوں میں

ان گِنت ستاروں کے

دِیپ بجھنے لگتے ہیں

Tuesday, 13 April 2021

اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھا

 اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھا

میرے دل میں کوئی ملال سا تھا

دُھل گیا آنسوؤں میں سارا وجود

عشق میں یہ عجب کمال سا تھا

جسم کی ڈال پر جھُکا تھا خواب

روح سرشار، دل نہال سا تھا