زندگی ریگِ دہشت پہ کمھلائے گی، جی نہیں مانتا
دِل میں جراُت کبھی گھر نہ کر پائے گی، جی نہیں مانتا
میں نے مانا سمندر ہے رُت ہجر کی، پر کنارے تلک
موج کوئی مچل کر نہیں آئے گی، جی نہیں مانتا
خواب ہی کے کنارے تمنا کی پرواز ہے رات، دن
راہ ملنے کی کوئی نہ بن پائے گی، جی نہیں مانتا