Monday, 16 August 2021

وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا

 وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا

دل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتا

ملتے ہیں بہت یوں تو جو آغوش کشا ہو

دل کے لئے وہ درد کا دھارا نہیں ملتا

اس عہد کی تصویر میں اپنا بھی لہو ہے

ڈھونڈے سے مگر نام ہمارا نہیں ملتا

قدرت کا کرم ہو تو الگ بات ہے ورنہ

مشکل میں تو اپنوں کا سہارا نہیں ملتا

صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی

لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ نہیں ملتا


ماہ طلعت زاہدی

No comments:

Post a Comment