Monday, 16 August 2021

حاصل کسی سے نقد حمایت نہ کر سکا

 حاصل کسی سے نقد حمایت نہ کر سکا

میں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا

ہر رنگ میں رقیب زر نام و ننگ ہوں

میں وہ ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا

گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہر

لیکن میں اس دیار سے ہجرت نہ کر سکا

پڑتا نہیں کسی کے بچھڑنے سے کوئی فرق

میں اس کو سچ بتانے کی زحمت نہ کر سکا

آیا جو اس کا ذکر تو میں گنگ رہ گیا

اور آئینے سے اس کی شکایت نہ کر سکا

باقی رکھی ہے میرے لہو نے متاع ہوش

میں نے وفا تو کی تھی نہایت نہ کر سکا

اب بھی شگفتہ نور سے ہے اس کو ربط خاص

وہ جو مِرے چراغ کی عزت نہ کر سکا

ہر چند اس گلاب پہ تشبیب کھل گئی

اس پر بھی میں گریز کی ہمت نہ کر سکا

ساجد قفس کی تیلیوں کو توڑ کر بھی میں

اس دشتِ بے کنار میں وحشت نہ کر سکا


غلام حسین ساجد

No comments:

Post a Comment