Showing posts with label شوکت پردیسی. Show all posts
Showing posts with label شوکت پردیسی. Show all posts

Sunday, 5 November 2023

مجھے آج روزی نہیں مل سکی ہے

 اقتباس از رزق


مجھے آج روزی نہیں مِل سکی ہے

مِرے گھر میں پھر آج چُولہا نہیں جل سکے گا

مِرے گھر کے افراد پھر آج آنسو پئیں گے

مِرے ننھے معصوم

بچوں کے رونے کی آواز سن کر

مِرے کچھ پڑوسی، مِری سرزنش کو

Thursday, 19 October 2023

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو

 میرے محبوب مِرے دل کو جلایا نہ کرو

ساز چھیڑا نہ کرو، گیت سُنایا نہ کرو

جاؤ، آباد کرو اپنی تمناؤں کو

مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو

میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں

میرے دامن کو اُلجھنے دو، چُھڑایا نہ کرو

Wednesday, 18 October 2023

اسے تھا دھوپ میں جلنا گوارہ کیوں

 ترجیح


اسے تھا دھوپ میں 

جلنا گوارہ کیوں

کبھی بھی دھیان سے تم نے نہیں سوچا 

نہیں ایسا نہیں تھا وہ 

شجر کے سائے سے محروم تھا یکسر 

بتاؤں میں تمہیں اس نے 

Tuesday, 17 October 2023

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

 زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

میری ویران پلکوں پہ دن ڈھلتے ہی کچھ ستارے مگر جگمگاتے رہے

لٹ گئی زندگی بجھ گئے دیپ بھی دور تک پھر نہ باقی رہی روشنی

اس اندھیرے میں بھی ہم تری یاد سے اپنی ویران محفل سجاتے رہے

تم سے بچھڑے ہوئے ایک مدت ہوئی دن گزرتا رہا وقت ٹلتا رہا

شام آتی رہی، دل دھڑکتا رہا، ہم چراغ محبت جلاتے رہے

Friday, 13 October 2023

منافق کبھی دوست ہوتا نہیں ہے کسی کا

 منافق


چلو ہم منافق کی سازش سے 

محفوظ رہنے کی تدبیر سوچیں

یہ ایذا رساں

اپنی فطرت سے 

مجبور ہو کر

کبھی وار کرتے نہیں سامنے سے

Sunday, 6 November 2022

سہانی رات میں دلکش نظارے یاد آتے ہیں

یاد


سہانی رات میں دلکش نظارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں


اسی صورت سے دن ڈھلتا ہے سورج ڈوب جاتا ہے

اسی صورت سے شبنم میں ہر اک ذرہ نہاتا ہے

تڑپ جاتا ہوں میں جب دل ذرا تسکین پاتا ہے

اسی انداز سے مجھ کو سہارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں