اقتباس از رزق
مجھے آج روزی نہیں مِل سکی ہے
مِرے گھر میں پھر آج چُولہا نہیں جل سکے گا
مِرے گھر کے افراد پھر آج آنسو پئیں گے
مِرے ننھے معصوم
بچوں کے رونے کی آواز سن کر
مِرے کچھ پڑوسی، مِری سرزنش کو
اقتباس از رزق
مجھے آج روزی نہیں مِل سکی ہے
مِرے گھر میں پھر آج چُولہا نہیں جل سکے گا
مِرے گھر کے افراد پھر آج آنسو پئیں گے
مِرے ننھے معصوم
بچوں کے رونے کی آواز سن کر
مِرے کچھ پڑوسی، مِری سرزنش کو
میرے محبوب مِرے دل کو جلایا نہ کرو
ساز چھیڑا نہ کرو، گیت سُنایا نہ کرو
جاؤ، آباد کرو اپنی تمناؤں کو
مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو
میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں
میرے دامن کو اُلجھنے دو، چُھڑایا نہ کرو
ترجیح
اسے تھا دھوپ میں
جلنا گوارہ کیوں
کبھی بھی دھیان سے تم نے نہیں سوچا
نہیں ایسا نہیں تھا وہ
شجر کے سائے سے محروم تھا یکسر
بتاؤں میں تمہیں اس نے
زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے
میری ویران پلکوں پہ دن ڈھلتے ہی کچھ ستارے مگر جگمگاتے رہے
لٹ گئی زندگی بجھ گئے دیپ بھی دور تک پھر نہ باقی رہی روشنی
اس اندھیرے میں بھی ہم تری یاد سے اپنی ویران محفل سجاتے رہے
تم سے بچھڑے ہوئے ایک مدت ہوئی دن گزرتا رہا وقت ٹلتا رہا
شام آتی رہی، دل دھڑکتا رہا، ہم چراغ محبت جلاتے رہے
منافق
چلو ہم منافق کی سازش سے
محفوظ رہنے کی تدبیر سوچیں
یہ ایذا رساں
اپنی فطرت سے
مجبور ہو کر
کبھی وار کرتے نہیں سامنے سے
یاد
سہانی رات میں دلکش نظارے یاد آتے ہیں
نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں
اسی صورت سے دن ڈھلتا ہے سورج ڈوب جاتا ہے
اسی صورت سے شبنم میں ہر اک ذرہ نہاتا ہے
تڑپ جاتا ہوں میں جب دل ذرا تسکین پاتا ہے
اسی انداز سے مجھ کو سہارے یاد آتے ہیں
نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں