عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ایک عورت ہے جو مشہورِ زماں ہوتی ہے
عقدِ سرکارﷺ میں آتی ہے تو ماں ہوتی ہے
چاروں بیٹی میں خدیجہؑ کا جمال آیا ہے
چوتھی بیٹی سے مگر خوب عیاں ہوتی ہے
شعر قرطاس پہ آتے ہیں برائے تمدیح
آپؐ کی یاد رگ و پَے میں رواں ہوتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ایک عورت ہے جو مشہورِ زماں ہوتی ہے
عقدِ سرکارﷺ میں آتی ہے تو ماں ہوتی ہے
چاروں بیٹی میں خدیجہؑ کا جمال آیا ہے
چوتھی بیٹی سے مگر خوب عیاں ہوتی ہے
شعر قرطاس پہ آتے ہیں برائے تمدیح
آپؐ کی یاد رگ و پَے میں رواں ہوتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ویرانے سے چلتا ہوا گلزار میں آوے
یوں ابنِ قحافہ تِری سرکار میں آوے
الہام ہو یوں مدحِ ابو بکرؓ خرد پر
تائیدِ علیؑ جیسے کہ اشعار میں آوے
جب دونوں کے ہونے کو مقید کرے خالق
ممکن ہی نہیں تیسرا پھر غار میں آوے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جُھکی ہے شکر میں دُنیا حضورﷺ آ ہی گئے
اب انتظار ہے کیسا حضورﷺ آ ہی گئے
اندھیرے فوت ہوئے، ظُلمتیں تمام ہوئیں
ہُوا جہاں میں اُجالا، حضورﷺ آ ہی گئے
یہ کس کے رُعب کا عالم ہے بُت لرزتے ہیں
پُکار اُٹھا ہے کعبہ؛ حضورﷺ آ ہی گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حضورؐ وصل نے مستی میں لالہ زاری کی
حضورؐ ہجر نے اس بار اشک باری کی
حضورؐ آہِ دریدہ کی لاج رکھ لیجے
حضورؐ رات کٹھن ہے یہ انتظاری کی
حضورؐ اب تو مدینہ بنے مِرا مسکن
حضورؐ بات ہے اب میری بیقراری کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زمانہ حُسنِ پیمبرﷺ کی دسترس میں رہا
پرندہ جیسے خُوشی سے حدِ قفس میں رہا
جمالِ "کُن" کی تجلّی کے بعد یہ عالم
مِرے حضورؐ شہِ بحر و بر کے بس میں رہا
کسی نظارے سے دل کو مزہ نہیں حاصل
مزہ جو گُنبدِ خضریٰ! تِرے کلس میں رہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تجھ کو توفیق دے خالق، کسی صورت پڑھ لے
پڑھنے والے، مِرے سرکارؐ کی سیرت پڑھ لے
اپنی بخشش کہاں کروائے گا انؐ سے پِھر کر
تُو سمجھ دار ہے "جاءُکَ" کی آیت پڑھ لے
جا رہا تھا میں سلامی کے لیے، ایسا ہُوا
پہلے دل نے کہا، اصحابؓ کی عظمت پڑھ لے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
عنایتوں کے شبستاں سے ہو کے وابستہ
چمک رہا ہے طلب گاروں کا مہِ خستہ
انہیں خبر تھی کہ اُمت کدھر سے گزرے گی
انہوںﷺ نے صاف کیا خار زار ہر رستہ
حضورؐ آپ کی سیرت سے منسلک یوں ہیں
ہو جیسے چادرِ یمنی میں ٹاٹ پیوستہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
نور افروز مِری قبر میں جب آئے گا
دوستو! اصل میں تب وقتِ طرب آئے گا
سب بیک وقت ميسر تجھے ہو گا جس جا
کچھ ہی لمحوں میں وہ صحرائے عرب آئے گا
مسکرا دے گی سرِ حشر کریمی انﷺ کی
قہر برسانے پہ جس وقت بھی رب آئے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
تِرا سراپا زمانے میں تمکنت میری
تِری حیات کا اک لمحہ سلطنت میری
وگرنہ لقمۂ دوزخ ہی بن گئے ہوتے
سنوار دی تِری رحمت نے عاقبت میری
میں ایک ذرۂ کم تر ہوں تیری چوکھٹ کا
خرد میں کس کے سمائے گی منزلت میری
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
لب پھر تِریؐ توصیف میں، میں کھول رہا ہوں
قرآں نے کہی بات جو، وہ بول رہا ہوں
جو حرف یا جو لفظ تِری شان میں لکھوں
میزانِ تفکّر پہ وہی تول رہا ہوں
میرے لیے لڑتے ہیں شہنشاہِ زمانہ
میں تیری غلامی سے ہی انمول رہا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
بندگی یوں بھی ہوئی رات کی تنہائی میں
میں نے اک نعت لکھی رات کی تنہائی میں
میرے سرکارؐ نے کیا مجھ پہ کرم فرمایا
دل کی آواز سنی رات کی تنہائی میں
یوں گُہر باری ہوئی یادِ مدینہ میں کہ بس
آنکھ بہتی ہی رہی رات کی تنہائی میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کہتے یہی ہیں آپؐ کے منگتے غرور سے
لاریب آپؐ سنتے ہیں نزدیک و دور سے
اِس پر قرآنِ پاک کی آیات ہے گواہ
روشن ہے کائنات محمدؐ کے نور سے
تصویرِ خضریٰ چسپاں ہے دیوارِ چشم پر
فارغ ہوں میں ابھی تو تمنائے حور سے