عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کہتے یہی ہیں آپؐ کے منگتے غرور سے
لاریب آپؐ سنتے ہیں نزدیک و دور سے
اِس پر قرآنِ پاک کی آیات ہے گواہ
روشن ہے کائنات محمدؐ کے نور سے
تصویرِ خضریٰ چسپاں ہے دیوارِ چشم پر
فارغ ہوں میں ابھی تو تمنائے حور سے
ادراک جس کی ذات کا جبریلؑ کو نہیں
وہ ذات کوسوں دور ہے اپنے شعور سے
جس کو شرابِ جلوۂ زیبا نصیب ہو
مدہوش کب ہوا ہے وہ جامِ طہور سے
نعتِ رسولؐ لکھنا انہی کے کرم پہ ہے
لیتا نہیں ہوں کام خرد سے شعور سے
یہ شانِ ارتقاء بھی تو خاصہ انہیں کا ہے
سب اگلے پچھلے ملتجی میرے حضورؐ سے
ایسا بھی ایک روز ہو طیبہ میں یا نبیﷺ
روزہ میں کھولوں زم زم و عجوہ کھجور سے
آزاد انور آپﷺ نے مصرع دیا ہے خوب
منسوب پھر عطا ہوا نعتِ حضورﷺ سے
عطا اشرفی
No comments:
Post a Comment