وہ نہیں لوٹے محبت کا زیاں ہونے تک
پھر انا ہار گئی راز عیاں ہونے تک
ہر طرف پھیل گئے کینہ و نفرت کے صنم
دل کی مسجد میں محبت کی اذاں ہونے تک
تتلیاں بھی غم فرقت میں لہو روتی ہیں
باغ امید میں پھولوں کے جواں ہونے تک
ساتھ دیتا ہے فقط اتنا تصور تیرا
صحن امید میں حسرت کے خزاں ہونے تک
کھینچ لاتا ہے سفینہ مِرا ساحل پہ کوئی
موج دریا پہ سمندر کا گماں ہونے تک
سفینہ چودھری
سفینہ سلیم صفی
No comments:
Post a Comment