Thursday, 8 June 2023

تاریک شب میں راستے سنسان ہو گئے

 تاریک شب میں راستے سنسان ہو گئے

اُلو کی بول سے خطا اوسان ہو گئے

اخبار میں خبر یہ جلی حرف میں چھپی

مجھ کو ٹکٹ دلایا کہا احسان ہو گئے

گھر سے چلا تو ماں کی دعائیں تھی ساتھ میں

منزل ملی ہے پورے سب ارمان ہو گئے

قد اس کا بڑھ سکا نہ بڑھے گا کبھی یہاں

لوگوں کی نگاہ میں وہ شیطان ہو گئے

جس نے قدم قدم پر ستایا ہر ایک کو

بستی کا وہی شخص تو پردھان ہو گئے

ثاقب کے حوصلے میں نہ آئی کبھی کمی

مشکل تھے راستے، مگر آسان ہو گئے


ثاقب کلیم

No comments:

Post a Comment