یا رب! مجھے جو درد ملے لا دوا ملے
لیکن یہ آرزو ہے مجھے حوصلہ ملے
مجرم ہوں، جرمِ سخت کا اقرار ہے مجھے
اچھا ہو مجھ کو اپنے کیے کی سزا ملے
تھی جن سے چارہ سازئ وحشت کی اک امید
بد قسمتی سے وہ بھی بہت پُر جفا ملے
یا رب! مجھے جو درد ملے لا دوا ملے
لیکن یہ آرزو ہے مجھے حوصلہ ملے
مجرم ہوں، جرمِ سخت کا اقرار ہے مجھے
اچھا ہو مجھ کو اپنے کیے کی سزا ملے
تھی جن سے چارہ سازئ وحشت کی اک امید
بد قسمتی سے وہ بھی بہت پُر جفا ملے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمد مصطفیٰﷺ محبوب داور بالیقیں تم ہو
لقب جس کو ملا احمدﷺ وہ امیں تم ہو
ہیں امت میں تمہاری بس ہمیں ہے ناز قسمت پر
محمدﷺ مجتبیٰ ہو رحمت اللعالمیں تم ہو
ہے دل تصدیق کرتا اور زباں اقرار کرتی ہے
تصور میں تم ہی تم، خیالِ دلنشیں تم ہو
پُر ہول ہے یہ راہگزر دیکھتے چلیے
کٹتا بھی ہے یہ کیسے سفر دیکھتے چلیے
یہ کشمکش شمس و قمر دیکھتے چلیے
آہوں کا ذرا اپنی اثر دیکھتے چلیے
عالم میں بہت دھوم نزاکت کی مچی ہے
نازک ہے بہت ان کی کمر دیکھتے چلیے
راہ جینے کی بتاؤ تو کوئی بات بنے
حوصلہ دل کا بڑھاؤ تو کوئی بات بنے
صرف اظہار محبت سے نہیں کام چلے
ہاں اگر ساتھ نبھاؤ تو کوئی بات بنے
دور سے دیدۂ امید کو ترساتے ہو
جب مجھے پاس بلاؤ تو کوئی بات بنے
گرویدہ جس کے حسن کا سارا جہان ہے
کرتے ہیں جس سے عشق وہ اردو زبان ہے
اللہ رے زبان کی کیا آن بان ہے
اقبال کی ہے روح تو غالب کی جان ہے
دلی کا مرثیہ ہو یا دل میں وفور غم
دیکھیں کلام میر کو کیا اس کی شان ہے