Friday, 2 July 2021

راہ جینے کی بتاؤ تو کوئی بات بنے

راہ جینے کی بتاؤ تو کوئی بات بنے

حوصلہ دل کا بڑھاؤ تو کوئی بات بنے

صرف اظہار محبت سے نہیں کام چلے

ہاں اگر ساتھ نبھاؤ تو کوئی بات بنے

دور سے دیدۂ امید کو ترساتے ہو

جب مجھے پاس بلاؤ تو کوئی بات بنے

نہ کرو دور سے دعوائے مسیحائی تم

مجھ سے مردے کو جلاؤ تو کوئی بات بنے

غیریت اب بھی نمایاں ہے ذرا رحم کرو

تم مجھے اپنا بناؤ تو کوئی بات بنے

معاملہ دل کا بتانے میں پس و پیش ہے کیا

پردۂ شرم اٹھاؤ تو کوئی بات بنے

کیوں سناتے ہو مجھے قصۂ درد ہجراں

پیار کے گیت سناؤ تو کوئی بات بنے

آنکھ سے آنکھ ملاتے ہو بھلا احقر سے

دل کو دل سے جو ملاؤ تو کوئی بات بنے


احقر عزیزی

ڈاکٹر محمد عبدالقادر

No comments:

Post a Comment