وحی
یاد ہے تم نے کہا تھا کہ پڑھو
یاد ہے تم نے کہا تھا کہ لکھو
یاد ہے تم نے بھلا کب یہ سب سکھایا تھا مجھے
اور میں سوچ کی اس غار کے اندر
کب سے بیٹھا ہوا
وحی
یاد ہے تم نے کہا تھا کہ پڑھو
یاد ہے تم نے کہا تھا کہ لکھو
یاد ہے تم نے بھلا کب یہ سب سکھایا تھا مجھے
اور میں سوچ کی اس غار کے اندر
کب سے بیٹھا ہوا
ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائے
ہے بہت لمبا سفر یوں تو نہ ڈرتا جائے
جی میں ٹھانی ہے کہ جینا ہے بہرحال مجھے
جس کو مرنا ہے وہ چپ چاپ ہی مرتا جائے
خود کو مضبوط بنا رکھے پہاڑوں کی طرح
ریت کا آدمی اندر سے بکھرتا جائے
اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھ
خواہشیں لپٹی ہوں جیسے بند دروازوں کے ساتھ
رات بھر ہوتا رہا ہے اس کے آنے کا گماں
ایسے ٹکراتی رہی ٹھنڈی ہوا پردوں کے ساتھ
ایک لمحے کا تعلق، عمر بھر کا روگ ہے
دوڑتے پھرتے رہو گے بھاگتے لمحوں کے ساتھ
ایک مختلف کہانی
جولی کتنی بھولی تھی
جب اس نے اظہار کیا تھا
اپنے اندر کی خواہش کا
اس چھوٹے سے شہر کے
سارے لوگوں نے اس پر تھوکا تھا