Showing posts with label افتخار نسیم. Show all posts
Showing posts with label افتخار نسیم. Show all posts

Thursday, 16 March 2023

یاد ہے تم نے کہا تھا کہ پڑھو

 وحی


یاد ہے تم نے کہا تھا کہ پڑھو

یاد ہے تم نے کہا تھا کہ لکھو

یاد ہے تم نے بھلا کب یہ سب سکھایا تھا مجھے

اور میں سوچ کی اس غار کے اندر

کب سے بیٹھا ہوا

Thursday, 28 April 2022

ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائے

 ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائے

ہے بہت لمبا سفر یوں تو نہ ڈرتا جائے

جی میں ٹھانی ہے کہ جینا ہے بہرحال مجھے

جس کو مرنا ہے وہ چپ چاپ ہی مرتا جائے

خود کو مضبوط بنا رکھے پہاڑوں کی طرح

ریت کا آدمی اندر سے بکھرتا جائے

Saturday, 16 January 2021

اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھ

 اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھ

خواہشیں لپٹی ہوں جیسے بند دروازوں کے ساتھ

رات بھر ہوتا رہا ہے اس کے آنے کا گماں

ایسے ٹکراتی رہی ٹھنڈی ہوا پردوں کے ساتھ

ایک لمحے کا تعلق، عمر بھر کا روگ ہے

دوڑتے پھرتے رہو گے بھاگتے لمحوں کے ساتھ

Tuesday, 6 October 2020

جولی کتنی بھولی تھی

 ایک مختلف کہانی


جولی کتنی بھولی تھی

جب اس نے اظہار کیا تھا

اپنے اندر کی خواہش کا

اس چھوٹے سے شہر کے

سارے لوگوں نے اس پر تھوکا تھا

Tuesday, 21 June 2016

کوئی حساب ہی رکھا نہیں ہے اب کے ساتھ

کوئی حساب ہی رکھا نہیں ہے اب کے ساتھ
بچھڑ گئے ہیں نہ جانے کہاں پہ کب کے ساتھ
خود اپنی راہ نکالی ہے میں نے پتھر سے
تمام عمر گزاری ہے اپنے ڈھب کے ساتھ
خدا کو چھوڑ دیا ہے فلک پہ انساں نے
کِیا ہے ظلم بہت اس نے اپنے رب کے ساتھ

سرائے چھوڑ کے وہ پھر کبھی نہیں آیا

سرائے چھوڑ کے وہ پھر کبھی نہیں آیا
چلا گیا جو مسافر، کبھی نہیں آیا
ہر اک شے مِرے گھر اسی کے ذوق کی ہے
جو میرے گھر میں بظاہر کبھی نہیں آیا
یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا
پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا

رات کو باہر اکیلے گھومنا اچھا نہیں

رات کو باہر اکیلے گھومنا اچھا نہیں
چھوڑ آؤ اس کو گھر تک راستا اچھا نہیں
غیر ہو کوئ تو اس سے کھل کر باتیں کیجیۓ
دوستوں کا دوستوں سے ہی گِلہ اچھا نہیں
اتفاقاً مل گیا ہے تو پوچھ لو موسم کا حال
کیوں نہیں مِلتا وہ اس سے پوچھنا اچھا نہیں

Thursday, 5 May 2016

کتنے گم کردہ جواہر کا خزینہ نکلا

کتنے گم کردہ جواہر کا خزینہ نکلا
جب زمیں کھود کے دیکھی میرا سینہ نکلا
رات بھر خواب اترتے ہیں ان آنکھوں میں
چاند جب جھیل پہ آیا تو یہ زینہ نکلا
کیسا دشمن ہے کہ سینے سے لگایا پھر بھی
اس کے دل سے نہ کسی طور بھی کِینہ نکلا

طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیں

طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیں
چل دیئے بیٹے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیں
ہو گیا خالی نگر بلوائیوں کے خوف سے
آنگنوں میں گھومتی پھرتی ہوائیں رہ گئیں
درمیاں تو جو بھی کچھ تھا اس کو وسعت کھا گئی
ہر طرف ارض و سما میں انتہائیں رہ گئیں

Wednesday, 4 May 2016

ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہے

ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہے
یہ بعد میں سہی کس بات سے مکرنا ہے
تو میرے ساتھ کہاں تک چلے گا میرے غزال
میں راستہ ہوں مجھے شہر سے گزرنا ہے
کنار آب میں کب تک گنوں گا لہروں کو
ہے شام سر پہ مجھے پار بھی اترنا ہے

بارشوں کے بعد ست رنگی دھنک آ جائے گی

بارشوں کے بعد ست رنگی دھنک آ جائے گی
کھل کے رو لو گے تو چہرے پر چمک آ جائے گی
پنکھڑی جتنا بچائے چور جھونکوں سے اسے
پھول تو جب بھی کھِلا اس کی مہک آ جائے گی
آج بھی مجھ کو یہ لگتا ہے کہ اگلے موڑ پر
جس پہ اک پیلا مکاں تھا، وہ سڑک آ جائے گی

Thursday, 28 April 2016

وصل کے نشے میں اس کا قہر بھی اچھا لگا

وصل کے نشے میں اس کا قہر بھی اچھا لگا
بھوک اتنی تھی کہ مجھ کو زہر بھی اچھا لگا
چھوڑ کر جس کو بہت ہی خوش ہوا تھا میں کبھی
دیکھ کر دنیا مجھے وہ شہر بھی اچھا لگا
اجنبی لگتی تھی اپنے وقت کی ہر ایک چیز
وہ مِلا تو مجھ کو اپنا دہر بھی اچھا لگا

جلا وطن ہوں مرا گھر پکارتا ہے مجھے

جلا وطن ہوں مِرا گھر پکارتا ہے مجھے
اداس بام کھلا درد پکارتا ہے مجھے
کسی کی چاپ مسلسل سنائی دیتی ہے
سفر میں کوئی برابر پکارتا ہے مجھے
صدف ہوں لہریں درِ جسم کھٹکٹاتی ہیں
کنارِ آب وہ گوہر پکارتا ہے مجھے

خیال مرگ کے آتے ہی ڈر گیا میں تو

خیالِ مرگ کے آتے ہی ڈر گیا میں تو
خود اپنی موت سے پہلے ہی مر گیا میں تو
سجھائی کچھ نہیں دیتا اس اندھیرے میں
میں قبر میں تھا کہ کمرے میں ڈر گیا میں تو
تیرے وصال کی خواہش مجھے سنوارتی ہے
تیرے فراق سے جیسے نکھر گیا میں تو

Friday, 25 December 2015

حسین شام کو برباد اس طرح کرنا

حسین شام کو برباد اس طرح کرنا
کہا تھا کس نے اسے یاد اس طرح کرنا
عجیب شخص ہے ظالم ہے زود رنج بھی ہے
اسے گراں نہ ہو فریاد اس طرح کرنا 
کسی طرح کی بھی دیوار درمیاں میں نہ ہو
تمام شہر کو آباد اس طرح کرنا

گھر میں رکھا نہ کبھی قید میں ڈالا اس نے

گھر میں رکھا نہ کبھی قید میں ڈالا اس نے
دے دیا مجھ کو عجب دیس نکالا اس نے
بَیر رکھتی ہے وہ رقاصہ تماشائی سے
بے بصر کر دیا ہر دیکھنے والا اس نے
بے یقینی کا سا عالم تھا دلوں پر اس وقت
میں نے وعدہ نہ لیا اور نہ ٹالا اس نے

وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا

وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا
میری آنکھ کس نے اجاڑ دی میرا خواب کس نے چرا لیا
تجھے کیا بتائیں کہ دلنشیں تیرے عشق میں تیری یاد میں
کبھی گفتگو رہی پھول سے کبھی چاند چھت پہ بلا لیا 
میری جنگ کی وہی جیت تھی ،میری فتح کا وہی جشن تھا
میں گرا تو دوڑ کے اس نے جب مجھے بازوؤں میں اٹھا لیا

Monday, 21 September 2015

نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا

نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا
گئے ہوۓ کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھنا
ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے
زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا
نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگِ ربط بن جائے
وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
جس گھڑی آیا پلٹ کر اک مِرا بِچھڑا ہوا
عام سے کپڑوں میں تھا وہ پھر بھی شہزادہ لگا
ہر گھڑی تیار ہے دل جان دینے کے لیے
اس نے پوچھا بھی نہیں یہ پھر بھی آمادہ لگا

سورج نئے برس کا مجھے جیسے ڈس گیا

سورج نئے برس کا مجھے جیسے ڈس گیا
تجھ سے ملے ہوئے مجھے یہ بھی برس گیا
بہتی رہی ندی مِرے گھر کے قریب سے
پانی کو دیکھنے کے لئے میں ترس گیا
ملنے کی خواہشیں سبھی دم توڑتی گئیں
دل میں کچھ ایسے خوف بچھڑنے کا بس گیا