Showing posts with label ہری چند اختر. Show all posts
Showing posts with label ہری چند اختر. Show all posts

Wednesday, 11 November 2020

جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہے

 جس زمیں پر ترا نقشِ کفِ پا ہوتا ہے

ایک اک ذرہ وہاں قبلہ نما ہوتا ہے

کاش وہ دل پہ رکھے ہاتھ اور اتنا پوچھے

کیوں تڑپ اٹھتا ہے کیا بات ہے کیا ہوتا ہے

بزمِ دشمن ہے خدا کے لیے آرام سے بیٹھ

بار بار اے دلِ ناداں تجھے کیا ہوتا ہے

Tuesday, 1 December 2015

جمع ہیں سارے مسافر ناخدائے دل کے پاس

 جمع ہیں سارے مسافر ناخدائے دل کے پاس 

کشتئ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس

سارباں کس جستجو  میں ہے، یہاں مجنوں کہاں

اب بگولا بھی نہ پھٹکے گا تِرے محمل کے پاس

ابتدائے عشق۔۔۔، یعنی ایک مہلک حادثہ

آ گئی ہستی یکا یک موت کی منزل کے پاس

Tuesday, 29 September 2015

کلیوں کا تبسم ہو کہ تم ہو کہ صبا ہو

کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو، کہ صبا ہو
اس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہو
یوں جسم مہکتا ہے ہوائے گلِ تر سے
جیسے کوئی پہلو سے، ابھی اٹھ کے گیا ہو
دنیا ہمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو
کچھ اور قریب آؤ، کوئی سن نہ رہا ہو

Monday, 24 November 2014

شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا

شباب آیا، کسی بُت پر فدا ہونے کا وقت آیا
مری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیا
تکلم کی خموشی کہہ رہی ہے حرفِ مطلب سے
کہ، اشک آمیز نظروں سے ادا ہونے کا وقت آیا
اسے دیکھا تو زاہد نے کہا، ایمان کی یہ ہے
کہ، اب انسان کو سجدہ روا ہونے کا وقت آیا

آباد اگر نجد کا ویرانہ نہیں ہے

آباد اگر نجد کا ویرانہ نہیں ہے
مجنوں کو بُلا لاؤ، وہ دیوانہ نہیں ہے
ہے شمعِ وفا محفلِ الفت میں ضیا ریز
اس شمع پہ لیکن کوئی پروانہ نہیں ہے
یہ عقل کی باتوں میں تو آئے گا نہ ہرگز
عاشق ترا ہشیار ہے، دیوانہ نہیں ہے