Tuesday, 1 December 2015

جمع ہیں سارے مسافر ناخدائے دل کے پاس

 جمع ہیں سارے مسافر ناخدائے دل کے پاس 

کشتئ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس

سارباں کس جستجو  میں ہے، یہاں مجنوں کہاں

اب بگولا بھی نہ پھٹکے گا تِرے محمل کے پاس

ابتدائے عشق۔۔۔، یعنی ایک مہلک حادثہ

آ گئی ہستی یکا یک موت کی منزل کے پاس

نعمتوں کو دیکھتا ہے اور ہنس دیتا ہے دل

محوِ حیرت ہوں کہ آخر کیا ہے مِرے دل کے پاس

یہ تِرے دستِ کرم کو کھینچ لے گا ایک دن

اے خدا! رہنے نہ دے دستِ دعا سائل کے پاس


ہری چند اختر

No comments:

Post a Comment