ہُو
نہ میکشوں کا وہ گلشن رہا نہ لالہ رہا
نہ زاہدوں کا وہ زاہد ہزار سالہ رہا
نہ کوئی دفترِ آداب کا رہا نسخہ
نہ کوئی مصحفِ انداز کا رسالہ رہا
نہ سوز و ساز کا قائم رہا مقولہ کوئی
نہ اہلِ عیش کے وہ دلفریب لحن رہے
نہ اہلِ درد کا وہ جانگداز نالہ رہا
حریمِ کیف میں تاریخِ رفتگاں بن کر
رہا تو حضرتِ ساقی کا اک پیالہ رہا
جوشؔ ملیح آبادی
No comments:
Post a Comment