میرے حواس لے لیے یار کی چشم مست نے
فتح کا تاج رکھ دیا سر پہ میرے شکست نے
طعنۂ خود سری دیا عشقِ جنوں پرست نے
راہِ وفا میں کھو دیا فکرِ بلند و پست نے
سر پر تِرے رہیں سدا پھولوں کے تاج فصلِ گُل
نظرِ عبودیت پڑھی میں نے کچھ ایسے لحن سے
ہنس کے رُباب اٹھا لیا نغمۂ زن الست نے
جا کے نسیمِ جاں ستاں! کہنا یہ بزمِ حسن میں
بھیجا ہے تحفہ و سلام، جوشِؔ سحر پرست نے
جوشؔ ملیح آبادی
No comments:
Post a Comment