Wednesday, 2 December 2015

میرے حواس لے لیے یار کی چشم مست نے

میرے حواس لے لیے یار کی چشم مست نے
فتح کا تاج رکھ دیا سر پہ میرے شکست نے
طعنۂ خود سری دیا عشقِ جنوں پرست نے
راہِ وفا میں کھو دیا فکرِ بلند و پست نے
سر پر تِرے رہیں سدا پھولوں کے تاج فصلِ گُل
روح کو مست کر دیا، تیری ہوائے مست نے
نظرِ عبودیت پڑھی میں نے کچھ ایسے لحن سے
ہنس کے رُباب اٹھا لیا نغمۂ زن الست نے
جا کے نسیمِ جاں ستاں! کہنا یہ بزمِ حسن میں
بھیجا ہے تحفہ و سلام، جوشِؔ سحر پرست نے

جوشؔ ملیح آبادی

No comments:

Post a Comment