Showing posts with label احسان دانش. Show all posts
Showing posts with label احسان دانش. Show all posts

Monday, 20 April 2026

لطف و سجود ہو چکا کیف کہاں نماز میں

 لُطف و سجود ہو چکا کیف کہاں نماز میں

ہو گئی گُم نِگاہِ شوق جلوۂ کعبہ ساز میں

راہِ حرم سے بیخودی کھینچ ہی لائی سُوئے دیر

لے تو چلی تھی بے دِلی دام گہِ نیاز میں

پِھر وہی قلبِ عِشق میں ذوقِ کلیم جاگ اُٹھا

کوند رہی ہیں بِجلیاں چشمِ نظارہ باز میں

Thursday, 15 May 2025

حسن فطرت کو ہجوم عاشقاں درکار تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حُسنِ فطرت کو ہجومِ عاشقاں درکار تھا

عاشقوں کو بہرِ سجدہ آستاں درکار تھا

زندگی تھی چلچلاتی دھوپ میں زار و زبوں

رہروں کو سایۂ ابرِ رواں درکار تھا

بحر کو موتی ملے، تاروں کو تنویریں ملیں

اس سخاوت کو شہ ہر دو جہاںﷺ درکار تھا

Wednesday, 14 May 2025

تکبیر سے فضا کو جگاتے ہوئے بڑھو

 رزمیہ ملی ترانہ


 تکبیر سے فضا کو جگاتے ہوئے بڑھو

نعرہ علیؑ علیؑ کا لگاتے ہوئے بڑھو


تم میں سے ایک ایک ہے بھاری ہزار پر

دشمن کو فنِ جنگ دکھاتے ہوئے بڑھو

تکبیر سے فضا کو جگاتے ہوئے بڑھو

نعرہ علی علی کا لگاتے ہوئے بڑھو

Friday, 6 September 2024

تم مرد میداں تم جان لشکر اللہ اکبر

 شہداء و غازیانِ پاکستان کو خراجِ تحسین

تم مردِ میداں، تم جانِ لشکر اللہ اکبر


تم مردِ میداں، تم جانِ لشکر اللہ اکبر

تم مردِ میداں، تم جانِ لشکر

آئین دیں ہیں سب تم کو ازبر

احکامِ باری، قولِ پیمبرﷺ

اللہ اکبر، اللہ اکبر


روحِ شجاعت، فخر وغا ہو

قدم اٹھاؤ اس طرح زمیں کا دل دہل اٹھے

 شہداء و غازیانِ پاکستان کو خراجِ تحسین

مجاہدین صف شکن بڑھے چل


قدم اٹھاؤ اس طرح زمیں کا دل دہل اٹھے 

وہ فقرۂ ہائے گرم ہو کہ رنگِ چرخ جل اٹھے 

بہ نازشِ کمالِ فن، بڑھے چلو، بڑھے چلو 

جبل جبل دمن دمن، بڑھے چلو، بڑھے چلو

جو راہ میں پہاڑ ہوں تو بے دریغ اکھاڑ دو 

اٹھاؤ اس طرح نشاں، فلک کے دل میں گاڑ دو 

Sunday, 30 July 2023

ہر وقت غازیوں کے تصور میں تھی یہ بات

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام 

صبح پیکار


ہر وقت غازیوں کے تصور میں تھی یہ بات

برحق ہے کہہ گئے ہیں جو مولائے کائناتؐ

احسان و در گزر بھی ہے ایمان کی زکات

بچوں پہ عورتوں پہ اٹھائے نہ کوئی ہات

قیدی ہوں کہ مریض ہماری اماں میں ہیں

گل ہوں کہ خار، فن کدۂ باغباں میں ہیں

Tuesday, 4 July 2023

دو عالم کا امداد گار آ گیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دو عالم کا امداد گار آ گیا

امینؐ آ گیا غمگسار آ گیا ہے

غریبوں کی جاں کو، یتیموں کے دل کو

سکوں ہو گیا ہے،۔ قرار آ گیا ہے

اصولِ محبت ہے پیغام جس کا

وہ محبوبﷺ پروردگار آ گیا ہوں

Friday, 16 June 2023

تری حمد میں کیا کروں اے خدا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تِری حمد میں کیا کروں اے خُدا

مِرا علم کیا ہے، مِری فکر کیا

میں ہُوں بے خبر، تُو خبیر و علیم

میں حادث ہُوں اور ذات تیری قدیم

مکاں ہے تِرا، لامکاں ہے تِرا

زمیں ہے تِری، آسماں ہے تِرا

Thursday, 1 June 2023

اللہ اللہ یہ وفور شوق دیدار حسین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اللہ، اللہ، یہ وفورِ شوقِ دیدارِ حسینؑ

ذرے ذرے میں نظر آتے ہیں انوارِ حسینؑ

زندگی میں جو رہے ہیں عاشقِ زارِ حسینؑ

وہ قیامت میں اٹھیں گے محوِ دیدارِ حسینؑ

جب بیاں ہوتے ہیں میدانِ بلا کے معرکے

جسم میں رفتارِ خوں ہوتی ہے رفتارِ حسینؑ

Sunday, 18 October 2020

ہنگامہ خودی سے تو بے نیاز ہو جا

 ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا

گم ہو کے بے خودی میں آگاہ راز ہو جا

حد بھی تو چاہیئے کچھ بے اعتنائیوں کی

غارت گر تحمل تسکیں نواز ہو جا

اے سرمدی ترانے ہر شے میں سوز بھر دے

یہ کس نے کہہ دیا ہے پابند ساز ہو جا

Wednesday, 23 September 2020

سو کا نوٹ؛ یہ جناب قائد اعظم کی اک توہین ہے

 سو کا نوٹ


دیکھوں، دیکھوں، کیا عجوبہ ہے، ذرا دینا ادھر

قائد اعظم کی ہے تصویر سو کے نوٹ پر

ذہن بھٹکا ہے یہ کس کا، یہ ستم کس نے کیا

میری خوش طبعی میں شامل زہرِ غم کس نے کیا

مصلحت، کہہ کر زبانِ حال سی دی جائے گی

کیا اسی تصویر سے رشوت بھی لی، دی جائے گی

Wednesday, 21 March 2018

جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گا

جو لے کے ان کی تمنا کے خواب نکلے گا 
بہ عجزِ شوق بہ حالِ خراب نکلے گا 
جو رنگ بانٹ کے جاتا ہے تنکے تنکے کو 
عدو زمیں کا یہی آفتاب نکلے گا 
بھری ہوئی ہے کئی دن سے دھند گلیوں میں 
نہ جانے شہر سے کب یہ عذاب نکلے گا 

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا
شروعِ عشق ہے، وہ فطرتاً چھپائے گا
دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن
اس آگ کو نہ تیرا پیراہن چھپائے گا
تِرا علاج شفاگاہ عصرِ نَو میں نہیں
خِرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا

وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جا

وفائیں کر کے جفاؤں کا غم اٹھائے جا 
اسی طرح سے زمانے کو آزمائے جا 
کسی میں اپنی صفت کے سوا کمال نہیں 
جدھر اشارۂ فطرت ہو سر جھکائے جا 
وہ لو رباب سے نکلی دھواں اٹھا دل سے 
وفا کا راگ اسی دھن میں گنگنائے جا 

اگرچہ خلد بریں کا جواب ہے دنیا

اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا
مگر خدا کی قسم ایک خواب ہے دنیا
سحر پیامِ تبسم ہے، شام اذنِ سکوت
شگوفہ زار کا فانی شباب ہے دنیا
لرز رہی ہے فضا میں صدائے غم پرور
ترنماتِ فنا کا رباب ہے دنیا

Friday, 27 January 2017

بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں تنہائی جنہیں دہراتی ہے

گیت

بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں تنہائی جنہیں دہراتی ہے 
رو رو کے گزرتی ہیں راتیں آنکھوں میں سحر ہو جاتی ہے

شرما کے کبھی چھپ چھپ جانا ہنس ہنس کے کبھی چل چل دینا
چنری کے ملائم کونے کو دانتوں میں دبا کر بل دینا 
آواز کسی کے ہنسنے کی کانوں میں ابھی تک آتی ہے

آج بھڑکی رگِِ وحشت ترے دیوانوں کی

 آج بھڑکی رگِ وحشت ترے دیوانوں کی

قسمتیں جاگنے والی ہیں بیابانوں کی

پھر گھٹاؤں میں ہے نقارۂ وحشت کی صدا

ٹولیاں بندھ کے چلیں دشت کو دیوانوں کی

آج کیا سُوجھ رہی ہے ترے دیوانوں کو

دھجیاں ڈھونڈھتے پھرتے ہیں گریبانوں کی

Wednesday, 18 January 2017

وہ زندگی جو داد فنا مانگتی پھرے

وہ زندگی، جو دادِ فنا مانگتی پھِرے
مشکل جو آ پڑے تو دعا مانگتی پھرے
طوفان کی بہشت میں اس کا گزر کہاں
کشتی جو ساحلوں کی ہوا مانگتی پھرے
ہے اس نظر کو بھی تِری حسرت جو بے ادب
شب سے سکوں نہ دن سے ضیا مانگتی پھرے

امید فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو

ترانہ

امیدِ فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو
عمل کے ساتھ مقدر کو آزمائے چلو
امیدِ فتح رکھو۔۔۔

مسافروں کیلئے مسافت کا زکر کیا معنی
قضا پکار رہی ہے قدم بڑھائے چلو

Monday, 7 November 2016

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا
پی“ اس نے جب کہا تو میں گھبرا کے پی گیا”
دل ہی تو ہے اٹھائے کہاں تک غم و الم
میں روز کے ملال سے اکتا کے پی گیا
تھیں لاکھ گرچہ محشر و مرقد کی الجھنیں
گتھی کو ضبطِ شوق کی سلجھا کے پی گیا