لُطف و سجود ہو چکا کیف کہاں نماز میں
ہو گئی گُم نِگاہِ شوق جلوۂ کعبہ ساز میں
راہِ حرم سے بیخودی کھینچ ہی لائی سُوئے دیر
لے تو چلی تھی بے دِلی دام گہِ نیاز میں
پِھر وہی قلبِ عِشق میں ذوقِ کلیم جاگ اُٹھا
کوند رہی ہیں بِجلیاں چشمِ نظارہ باز میں
لُطف و سجود ہو چکا کیف کہاں نماز میں
ہو گئی گُم نِگاہِ شوق جلوۂ کعبہ ساز میں
راہِ حرم سے بیخودی کھینچ ہی لائی سُوئے دیر
لے تو چلی تھی بے دِلی دام گہِ نیاز میں
پِھر وہی قلبِ عِشق میں ذوقِ کلیم جاگ اُٹھا
کوند رہی ہیں بِجلیاں چشمِ نظارہ باز میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حُسنِ فطرت کو ہجومِ عاشقاں درکار تھا
عاشقوں کو بہرِ سجدہ آستاں درکار تھا
زندگی تھی چلچلاتی دھوپ میں زار و زبوں
رہروں کو سایۂ ابرِ رواں درکار تھا
بحر کو موتی ملے، تاروں کو تنویریں ملیں
اس سخاوت کو شہ ہر دو جہاںﷺ درکار تھا
رزمیہ ملی ترانہ
تکبیر سے فضا کو جگاتے ہوئے بڑھو
نعرہ علیؑ علیؑ کا لگاتے ہوئے بڑھو
تم میں سے ایک ایک ہے بھاری ہزار پر
دشمن کو فنِ جنگ دکھاتے ہوئے بڑھو
تکبیر سے فضا کو جگاتے ہوئے بڑھو
نعرہ علی علی کا لگاتے ہوئے بڑھو
شہداء و غازیانِ پاکستان کو خراجِ تحسین
تم مردِ میداں، تم جانِ لشکر اللہ اکبر
تم مردِ میداں، تم جانِ لشکر اللہ اکبر
تم مردِ میداں، تم جانِ لشکر
آئین دیں ہیں سب تم کو ازبر
احکامِ باری، قولِ پیمبرﷺ
اللہ اکبر، اللہ اکبر
روحِ شجاعت، فخر وغا ہو
شہداء و غازیانِ پاکستان کو خراجِ تحسین
مجاہدین صف شکن بڑھے چل
قدم اٹھاؤ اس طرح زمیں کا دل دہل اٹھے
وہ فقرۂ ہائے گرم ہو کہ رنگِ چرخ جل اٹھے
بہ نازشِ کمالِ فن، بڑھے چلو، بڑھے چلو
جبل جبل دمن دمن، بڑھے چلو، بڑھے چلو
جو راہ میں پہاڑ ہوں تو بے دریغ اکھاڑ دو
اٹھاؤ اس طرح نشاں، فلک کے دل میں گاڑ دو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
صبح پیکار
ہر وقت غازیوں کے تصور میں تھی یہ بات
برحق ہے کہہ گئے ہیں جو مولائے کائناتؐ
احسان و در گزر بھی ہے ایمان کی زکات
بچوں پہ عورتوں پہ اٹھائے نہ کوئی ہات
قیدی ہوں کہ مریض ہماری اماں میں ہیں
گل ہوں کہ خار، فن کدۂ باغباں میں ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دو عالم کا امداد گار آ گیا
امینؐ آ گیا غمگسار آ گیا ہے
غریبوں کی جاں کو، یتیموں کے دل کو
سکوں ہو گیا ہے،۔ قرار آ گیا ہے
اصولِ محبت ہے پیغام جس کا
وہ محبوبﷺ پروردگار آ گیا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تِری حمد میں کیا کروں اے خُدا
مِرا علم کیا ہے، مِری فکر کیا
میں ہُوں بے خبر، تُو خبیر و علیم
میں حادث ہُوں اور ذات تیری قدیم
مکاں ہے تِرا، لامکاں ہے تِرا
زمیں ہے تِری، آسماں ہے تِرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ، اللہ، یہ وفورِ شوقِ دیدارِ حسینؑ
ذرے ذرے میں نظر آتے ہیں انوارِ حسینؑ
زندگی میں جو رہے ہیں عاشقِ زارِ حسینؑ
وہ قیامت میں اٹھیں گے محوِ دیدارِ حسینؑ
جب بیاں ہوتے ہیں میدانِ بلا کے معرکے
جسم میں رفتارِ خوں ہوتی ہے رفتارِ حسینؑ
ہنگامۂ خودی سے تو بے نیاز ہو جا
گم ہو کے بے خودی میں آگاہ راز ہو جا
حد بھی تو چاہیئے کچھ بے اعتنائیوں کی
غارت گر تحمل تسکیں نواز ہو جا
اے سرمدی ترانے ہر شے میں سوز بھر دے
یہ کس نے کہہ دیا ہے پابند ساز ہو جا
سو کا نوٹ
دیکھوں، دیکھوں، کیا عجوبہ ہے، ذرا دینا ادھر
قائد اعظم کی ہے تصویر سو کے نوٹ پر
ذہن بھٹکا ہے یہ کس کا، یہ ستم کس نے کیا
میری خوش طبعی میں شامل زہرِ غم کس نے کیا
مصلحت، کہہ کر زبانِ حال سی دی جائے گی
کیا اسی تصویر سے رشوت بھی لی، دی جائے گی
آج بھڑکی رگِ وحشت ترے دیوانوں کی
قسمتیں جاگنے والی ہیں بیابانوں کی
پھر گھٹاؤں میں ہے نقارۂ وحشت کی صدا
ٹولیاں بندھ کے چلیں دشت کو دیوانوں کی
آج کیا سُوجھ رہی ہے ترے دیوانوں کو
دھجیاں ڈھونڈھتے پھرتے ہیں گریبانوں کی