Showing posts with label مختار علی. Show all posts
Showing posts with label مختار علی. Show all posts

Monday, 27 May 2024

مسند عرش سے تا بہ فرش حرم وہ سراپا کرم

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مسندِ عرش سے تا بہ فرشِ حرم، وہ سراپا کرم

وہ شہ انبیاءﷺ، وہ شفیعُ الاُمم، وہ سراپا کرم

اُنؐ کا ہر اِک سُخن عِلم و حکمت کے موتی لُٹاتا ہوا

اُن کی ہر بات کا زاویہ محترم، وہ سراپا کرم

میں نے چاہا کہ اِسمِ مُحمّدؐ لِکھوں اور خوش خط لِکھوں

اُنؐ کی سرکار میں سر نِگوں ہے قلم، وہ سراپا کرم

Tuesday, 25 October 2022

جسم میں رسم تنفس کا عمل جاری ہو

 جسم میں رسمِ تنفس کا عمل جاری ہو

تم جو چُھو لو تو نئے خواب کی تیاری ہو

رات میں صبح اُمڈتی ہو کہ تم آن مِلو

نیند کی نیند ہو بیداری کی بیداری ہو

تم جو سوئے رہو، سورج بھی نمودار نہ ہو

عکس کے شوق میں آئینے کی تیاری ہو

Wednesday, 28 September 2022

نغمگی جیسے کسی ساز کو زندہ کر دے

 نغمگی جیسے کسی ساز کو زندہ کر دے

اک سماعت مِری آواز کو زندہ کر دے

پر شکستہ ہوں مگر جست تو بھر لوں شاید

یہی کوشش مِری پرواز کو زندہ کر دے

ہم اسی عشق کی شمشیر سے گھائل ہیں کہ جو

بعض کو مار دے اور بعض کو زِندہ کر دے

Tuesday, 27 September 2022

دشت میں اشک فشانی کی نمائش نہیں کی

 دشت میں اشک فشانی کی نمائش نہیں کی

ریت پر بیٹھ کے پانی کی نمائش نہیں کی

وقت ہر چیز کو مٹی میں ملا دیتا ہے

اس لیے ہم نے جوانی کی نمائش نہیں کی

چاند کو گھر سے نکلنے میں جو تاخیر ہوئی

رات نے رات کی رانی کی نمائش نہیں کی

Sunday, 25 September 2022

عشاق بھی کیا نت نئے آزار خریدیں

 عشّاق بھی کیا نِت نئے آزار خریدیں

اک غم کی ضرورت ہو تو بازار خریدیں

آباد ہے شہروں سے تو ویرانہ ہمارا

دو دن کے لیے کیا در و دیوار خریدیں

دستار کو جو ڈھال سمجھتے ہیں وہ سمجھیں

سر جن کو بچانا ہے وہ تلوار خریدیں

Saturday, 24 September 2022

دلوں سے درد دعا سے اثر نکلتا ہے

 دلوں سے درد، دعا سے اثر نکلتا ہے

یہ کس بہشت کی جانب بشر نکلتا ہے

پڑا ہے شہر میں چاندی کے برتنوں کا رواج

سو اس عذاب سے اب کوزہ گر نکلتا ہے

میاں! یہ چادرِ شہرت تم اپنے پاس رکھو

کہ اس سے پاؤں جو ڈھانپیں تو سر نکلتا ہے

Thursday, 17 June 2021

زبان کے سخت لیکن دل کے پیارے ہوتے ہیں

 زبان کے سخت لیکن دل کے پیارے ہوتے ہیں

ذرا ذرا سے منافق تو سارے ہوتے ہیں

دیارِ عشق کا اُلٹ حساب چلتا ہے

یہاں کے سارے منافعے خسارے ہوتے ہیں

تم اپنی رائے بدلنے میں حق بجانب ہو

ہر آدمی نے کئی روپ دھارے ہوتے ہیں