اب غم ہے جُدائی کا نہ مِلنے کی خُوشی ہے
وہ یہ بھی نہ سمجھیں کہ محبت میں کمی ہے
ہنگامے ہزاروں تھے میری ذات کے باہر
اس گھر میں سوا میرے کوئی تھا نہ کوئی ہے
رہ رہ کے مہک اُٹھتا ہے تنہائی کا صحرا
محسوس یہ ہوتا ہے مِرے ساتھ کوئی ہے
سِمٹا ہوا اک شخص تھا خُود اپنے ہی اندر
خُوشبُو مگر آج اس کی زمانے میں اُڑی ہے
کل مُجھ سے مِلا تھا بُرا حال تھا اُس کا
اخبار میں جس شخص کی تصویر چھپی ہے
پڑھ پڑھ کے نسیم اس کی نگاہوں کے اشارے
اک آس جو ٹُُوٹی ہے، تو اک آس بندھی ہے
نسیم رفعت گوالیاری
عبدالقیوم
No comments:
Post a Comment