مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا
روز اب خواب میں دریا نہیں دیکھا جاتا
ظرف کا عکس کہیں اور ہی چل کر دیکھیں
آئینوں میں تو یہ چہرہ نہیں دیکھا جاتا
تُو ہنسی لے کے مِری آنکھ کو آنسو دے دے
مجھ سے سُوکھا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا
مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا
روز اب خواب میں دریا نہیں دیکھا جاتا
ظرف کا عکس کہیں اور ہی چل کر دیکھیں
آئینوں میں تو یہ چہرہ نہیں دیکھا جاتا
تُو ہنسی لے کے مِری آنکھ کو آنسو دے دے
مجھ سے سُوکھا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا
اپنی تقدیر کا شکوہ نہیں لکھا میں نے
خود کو محرومِ تمنا نہیں لکھا میں نے
اے قلم کرنا مِرے ہاتھ کی لغزش کو معاف
تجھ سے شاہوں کا قصیدہ نہیں لکھا میں نے
گِر نہ جائے تِرے معیار سے انداز حروف
یوں کبھی نام بھی تیرا نہیں لکھا میں نے
تپتے صحراؤں کی سوغات لیے بیٹھا ہے
پیاسی آنکھوں میں وہ برسات لیے بیٹھا ہے
چند مَسلے ہوئے صفحات لیے بیٹھا ہے
گھر کا بوڑھا جو روایات لیے بیٹھا ہے
عمر ہی تیری گزر جائیگی انکے حل میں
تیرا بچہ جو سوالات لیے بیٹھا ہے
ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں
پھر بھی دنیا کی نگاہوں میں گنہگار ہوں میں
گردش وقت نے اس حال میں چھوڑا ہے مجھے
اب کسی شہر کا لوٹا ہوا بازار ہوں میں
در پہ رہنے دے مجھے ٹاٹ کا پردہ ہی سہی
تیرے اسلاف کا چھوڑا ہوا کردار ہوں میں
پوشیدہ عجب زیست کا اک راز ہے مجھ میں
بے پر ہوں مگر جرأت پرواز ہے مجھ میں
دنیا میں تِرے ساتھ ابھی چل نہ سکوں گا
کچھ باقی ابھی ظرف کی آواز ہے مجھ میں
صفحات پہ بکھرے ہیں مِرے سینکڑوں سورج
انساں کے ہر اک باب کا آغاز ہے مجھ میں