Showing posts with label حامد مختار. Show all posts
Showing posts with label حامد مختار. Show all posts

Saturday, 2 October 2021

مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا

 مجھ سے یہ پیاس کا صحرا نہیں دیکھا جاتا

روز اب خواب میں دریا نہیں دیکھا جاتا

ظرف کا عکس کہیں اور ہی چل کر دیکھیں

آئینوں میں تو یہ چہرہ نہیں دیکھا جاتا

تُو ہنسی لے کے مِری آنکھ کو آنسو دے دے

مجھ سے سُوکھا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا

Friday, 1 October 2021

اپنی تقدیر کا شکوہ نہیں لکھا میں نے

 اپنی تقدیر کا شکوہ نہیں لکھا میں نے

خود کو محرومِ تمنا نہیں لکھا میں نے

اے قلم کرنا مِرے ہاتھ کی لغزش کو معاف

تجھ سے شاہوں کا قصیدہ نہیں لکھا میں نے

گِر نہ جائے تِرے معیار سے انداز حروف

یوں کبھی نام بھی تیرا نہیں لکھا میں نے

Wednesday, 29 September 2021

تپتے صحراؤں کی سوغات لیے بیٹھا ہے

 تپتے صحراؤں کی سوغات لیے بیٹھا ہے

پیاسی آنکھوں میں وہ برسات لیے بیٹھا ہے

چند مَسلے ہوئے صفحات لیے بیٹھا ہے

گھر کا بوڑھا جو روایات لیے بیٹھا ہے

عمر ہی تیری گزر جائیگی انکے حل میں

تیرا بچہ جو سوالات لیے بیٹھا ہے

Tuesday, 21 September 2021

ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

 ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

پھر بھی دنیا کی نگاہوں میں گنہگار ہوں میں

گردش وقت نے اس حال میں چھوڑا ہے مجھے

اب کسی شہر کا لوٹا ہوا بازار ہوں میں

در پہ رہنے دے مجھے ٹاٹ کا پردہ ہی سہی

تیرے اسلاف کا چھوڑا ہوا کردار ہوں میں

Sunday, 9 May 2021

پوشیدہ عجب زیست کا اک راز ہے مجھ میں

 پوشیدہ عجب زیست کا اک راز ہے مجھ میں

بے پر ہوں مگر جرأت پرواز ہے مجھ میں

دنیا میں تِرے ساتھ ابھی چل نہ سکوں گا

کچھ باقی ابھی ظرف کی آواز ہے مجھ میں

صفحات پہ بکھرے ہیں مِرے سینکڑوں سورج

انساں کے ہر اک باب کا آغاز ہے مجھ میں