Showing posts with label رخشاں ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label رخشاں ہاشمی. Show all posts

Friday, 28 April 2023

دیکھو آقا کی گلی اور وہ روضہ دیکھو

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


دیکھو آقاﷺ کی گلی اور وہ روضہ دیکھو

اپنی نظروں کو سکوں بخش دو کعبہ دیکھو

میں دل و جان سے روضے پہ جُھکی جاتی ہوں

دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جلوہ دیکھو

مشکلوں میں بھی وہی عشق تجھے تھامے گا

غم سلامت رہے خوشیوں کا فرشتہ دیکھو

Friday, 10 September 2021

چلو تم بھی مقدر آزما لو

 چلو تم بھی مقدر آزما لو

ہمارے نام کا سکہ اچھالو

گہر کم ہیں خزف ریزے زیادہ

ابھی کچھ اور دریا کو کھنگالو

چلو کرتے ہیں تجدیدِ تعلق

پرانی رنجشوں پر خاک ڈالو

Monday, 11 January 2016

آج یہ سوچ کے رکھ دی ہے کہ اب کل ہو گی

آج یہ سوچ کے رکھ دی ہے کہ اب کل ہو گی
جانے کب تک تِری تصویر مکمل ہو گی
عشق میں جس کی دیوانی تھی وہی شہزادہ
ہنس کے بولا ارے چھوڑو، کوئی پاگل ہو گی
جب کھلی چھت پہ ہواؤں کا چلے گا جادو
رات کی آنکھ بھی پھر نیند سے بوجھل ہو گی

آدمی آدمی سے ڈرتا ہے

آدمی آدمی سے ڈرتا ہے
دل ہمارا سبھی سے ڈرتا ہے
موت کا خوف اب نہیں کوئی
جب سے دل زندگی سے ڈرتا ہے
اب تو ایسی عجیب حالت ہے
غم ہمارا خوشی سے ڈرتا ہے

بلندی اور نہ پستی چاہتا ہے

بلندی اور نہ پستی چاہتا ہے
ہمارے دل کی بستی چاہتا ہے
انا کی جنگ میں ہارے گا اک دن
وہ پاگل سرپرستی چاہتا ہے
بھلا جذبوں کا کوئی مول ہے کیا
محبت بھی وہ سستی چاہتا ہے

محبت کو چھپانا آ گیا ہے

محبت کو چھپانا آ گیا ہے
خود اپنا دل دکھانا آ گیا ہے
فسانے میں حقیقت جب سے آئی
حقیقت میں فسانہ آ گیا ہے
سیاست میں قدم جیسے بڑھایا
مِرے پیچھے زمانہ آ گیا ہے

Friday, 8 January 2016

تم میرے ساتھ رہو گے تو اجالا ہو گا

تم میرے ساتھ رہو گے تو اجالا ہو گا
میری آنکھوں میں کوئی جھانکنے والا ہو گا
تیری یادوں کا حسیں جال بنایا ہم نے
جیسے دیوار میں مکڑی کا وہ جالا ہو گا
جان جائے یا رہے، ہم نے قسم کھائی ہے
اشک سے پیاس بجھے، غم کا نوالا ہو گا

یوں دھڑکنوں کو شمار کرنا کوئی تو سیکھے

یوں دھڑکنوں کو شمار کرنا کوئی تو سیکھے
ہمارا دل بے قرار کرنا کوئی تو سیکھے
خوشی سے غم کا ہے گہرا ناتا، یہی حقیقت
دکھوں پہ بھی اعتبار کرنا کوئی تو سیکھے
وہ سوکھے پھولوں سے بھر کے دامن کو لوٹ آئے
خزاں کا موسم بہار کرنا کوئی تو سیکھے

ذرا آسان تم یہ کام کر دو

ذرا آسان تم یہ کام کر دو
گرا کر زلف اپنی شام کر دو
مِرا یہ دل تمہارا ہی رہے گا
تم اپنا دل بھی میرے نام کر دو
لہو میرا تمہیں سیراب کر دے
بڑھاؤ ہاتھ خالی جام کر دو

رنگ رخسار کا گلابی ہے

رنگ رخسار کا گلابی ہے
یہ محبت کی کامیابی ہے
عشق کیجے، مگر خیال رہے
حسن کے پاس دل کی چابی ہے
کیوں سیاست کی بات کرتے ہیں
آپ میں بس یہی خرابی ہے

Thursday, 7 January 2016

محبت اب بغاوت چاہتی ہے

محبت اب بغاوت چاہتی ہے
زمانے سے اجازت چاہتی ہے
اسی کے پاس پھر ہم لوٹ جائیں
نجانے کیوں یہ قسمت چاہتی ہے
کہیں ہو گا بسیرا اب ہمارا
ہمیں جب اس کی نفرت چاہتی ہے

یہ کیسے راستے ہم نے چنے ہیں

یہ کیسے راستے ہم نے چنے ہیں
نیا ہر شہر ہے چہرے نئے ہیں
حوادث منتظر ہیں لمحہ لمحہ
عجب ماحول میں بیٹھے ہوئے ہیں
بتاؤں کیا تمہیں اہلِ سیاست
قیامت کے ستم کس نے کیے ہیں

اے خدا ابرِ کرم تیرا برابر برسے

اے خدا ابرِ کرم تیرا برابر برسے
معجزہ یہ ہو کہ صحرا پہ سمندر برسے
کچھ عجب شان سے اے زیست گزارا ہے تجھے
مسکراتے رہے باہر، مگر اندر برسے
ہم تِرے شہر کو تو شہر پناہ سمجھے تھے
تیرے ہی شہر میں ہر سمت سے پتھر برسے

کوئی دل میں بسا کے چھوڑ گیا

کوئی دل میں بسا کے چھوڑ گیا
مجھ کو سپنے دکھا کے چھوڑ گیا
آنسوؤں سے ہی پیار کر بیٹھے
یوں وہ مجھ کو رلا کے چھوڑ گیا
ہر گھڑی ٹوٹنے کا خدشہ ہے
مجھ کو شیشہ بنا کے چھوڑ گیا

Wednesday, 6 January 2016

محبت کو اشارا مل گیا ہے

محبت کو اشارا مل گیا ہے
مِرے غم کو سہارا مل گیا ہے
سمندر کا ستم کتنا سہیں ہم
چلو کشتی! کنارا مل گیا ہے
خدا کا شکر ہے معصوم خواہش
تمہیں سب کچھ خدارا مل گیا ہے

خوش رہنا سکھا دو نا

خوش رہنا سکھا دو نا
ہر غم کو بھلا دو نا
جو یاد رہے برسوں
اب ایسی سزا دو نا
کیوں کچھ بھی نہیں کہتے
کیا دکھ ہے بتا دو نا

محبت آزماتی ہے

محبت آزماتی ہے
تماشا بھی دکھاتی ہے
اسے ہم یاد کرتے ہیں
ہمیں یہ بھول جاتی ہے
نہ جانے کیا ہوا دل کو
عجب آواز آتی ہے

کسی گل کو مسل کر کیا ملا ہے

کسی گل کو مسل کر کیا مِلا ہے
مِرے دل سے نکل کر کیا مِلا ہے
محبت کا ستارہ کیوں گنوایا
بتاؤ! ہاتھ مَل کر کیا مِلا ہے
اداسی کے مکاں میں اب مکِیں ہو
کہو، اب گھر بدل کر کیا مِلا ہے