کوئی دل میں بسا کے چھوڑ گیا
مجھ کو سپنے دکھا کے چھوڑ گیا
آنسوؤں سے ہی پیار کر بیٹھے
یوں وہ مجھ کو رلا کے چھوڑ گیا
ہر گھڑی ٹوٹنے کا خدشہ ہے
ایک شمع ہے اور خود میں ہوں
کیا کہیں دل جلا کے چھوڑ گیا
رخشاںؔ اس زندگی کی کشتی کو
کیا بتائیں ڈُبا کے چھوڑ گیا
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment