Thursday, 7 January 2016

کوئی دل میں بسا کے چھوڑ گیا

کوئی دل میں بسا کے چھوڑ گیا
مجھ کو سپنے دکھا کے چھوڑ گیا
آنسوؤں سے ہی پیار کر بیٹھے
یوں وہ مجھ کو رلا کے چھوڑ گیا
ہر گھڑی ٹوٹنے کا خدشہ ہے
مجھ کو شیشہ بنا کے چھوڑ گیا
ایک شمع ہے اور خود میں ہوں
کیا کہیں دل جلا کے چھوڑ گیا
رخشاںؔ اس زندگی کی کشتی کو
کیا بتائیں ڈُبا کے چھوڑ گیا

رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment