اے خدا ابرِ کرم تیرا برابر برسے
معجزہ یہ ہو کہ صحرا پہ سمندر برسے
کچھ عجب شان سے اے زیست گزارا ہے تجھے
مسکراتے رہے باہر، مگر اندر برسے
ہم تِرے شہر کو تو شہر پناہ سمجھے تھے
کتنے ہی دل کے نہاں خانوں میں آ جائے ابال
میری آنکھوں سے جو اشکوں کا سمندر برسے
عمر یوں ہم نے گزاری کہ تہی دست رہے
ہو دعا آج کہ رخشاںؔ کا مقدر برسے
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment