Thursday, 7 January 2016

یہ کیسے راستے ہم نے چنے ہیں

یہ کیسے راستے ہم نے چنے ہیں
نیا ہر شہر ہے چہرے نئے ہیں
حوادث منتظر ہیں لمحہ لمحہ
عجب ماحول میں بیٹھے ہوئے ہیں
بتاؤں کیا تمہیں اہلِ سیاست
قیامت کے ستم کس نے کیے ہیں
جو ہے مظلوم اس پر ظلم ہو گا
یہ ایسے فیصلے اکثر ہوئے ہیں
مِری مشکل کو تم سلجھاؤ گے کیا
یہاں سب مسئلے الجھے ہوئے ہیں
بھلا کیا خواب تھا، تعبیر کیا ہے
کہ ہم خود ٹوٹ کر بکھرے ہوئے ہیں
جو رخشاںؔ کے لہو کی داستاں ہے
اسے سب شاعری سمجھے ہوئے ہیں

رخشاں ہاشمی

No comments:

Post a Comment