یہ کیسے راستے ہم نے چنے ہیں
نیا ہر شہر ہے چہرے نئے ہیں
حوادث منتظر ہیں لمحہ لمحہ
عجب ماحول میں بیٹھے ہوئے ہیں
بتاؤں کیا تمہیں اہلِ سیاست
جو ہے مظلوم اس پر ظلم ہو گا
یہ ایسے فیصلے اکثر ہوئے ہیں
مِری مشکل کو تم سلجھاؤ گے کیا
یہاں سب مسئلے الجھے ہوئے ہیں
بھلا کیا خواب تھا، تعبیر کیا ہے
کہ ہم خود ٹوٹ کر بکھرے ہوئے ہیں
جو رخشاںؔ کے لہو کی داستاں ہے
اسے سب شاعری سمجھے ہوئے ہیں
رخشاں ہاشمی
No comments:
Post a Comment