Showing posts with label نادم بلخی. Show all posts
Showing posts with label نادم بلخی. Show all posts

Thursday, 8 January 2026

کیا بجھاتا پیاس پیاسے کی دہانہ ریت کا

 کیا بجھاتا پیاس پیاسے کی دہانہ ریت کا

لے اڑا آبِ حقیقت ہر فسانہ ریت کا

نامرادی کے لیے ناداں بڑھا اس کی طرف

دور سے دیکھا جو عکسِ مشفقانہ ریت کا

آسماں نے لے لیا آغوش میں بحرِ سراب

اس زمیں پر تن گیا اک شامیانہ ریت کا

Monday, 9 June 2025

ہم نے دیکھے عجب عجب گونگے

 ہم نے دیکھے عجب عجب گونگے

تھی زباں تو مگر تھے سب گونگے

کر شکایت نہ بے زبانوں کی

نطق والے ہوئے ہیں جب گونگے

حشر برپا ہے بیچ دریا میں

دونوں ساحل ہیں لب بہ لب گونگے

Friday, 24 January 2025

یہی نہیں کہ تو آیا فقط عرب کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہی نہیں کہ تُوؐ آیا فقط عرب کے لیے

جہاں میں ذاتِ گرامی ہے تیری سب کے لیے

نگاہِ خالقِ ہستی میں سرخرو ہے وہی

وہ جس کے دل میں جگہ ہے تِرے ادب کے لیے

تیری ہی ذات ہے لیل و نہار کی تابش

تُو دن کے واسطے سورج ہے، چند شب کے لیے

Friday, 10 January 2025

دوست کوئی جو معتبر نہ رہا

 دوست کوئی جو معتبر نہ رہا

اعتبار اپنے آپ پر نہ رہا

راہبر سے جو بے خبر نہ رہا

راہزن کا اسی کو ڈر نہ رہا

فصل آئی ہے جب سے پت جھڑ کی

سایہ والا کوئی شجر نہ رہا

Tuesday, 3 December 2024

دھوپ کی یورش نہ کیوں ہو بام و در کے سامنے

 دھوپ کی یورش نہ کیوں ہو بام و در کے سامنے

کاٹ ڈالا اس نے برگد تھا جو تھا گھر کے سامنے

آبلہ پائی سے ان کی پوچھیے حالِ سفر

ریت ہے تپتی ہوئی جن کی نظر کے سامنے

ہمسفر کو ہمسفر سے آس جو تھی، اٹھ گئی

کارواں لُوٹا گیا جب راہبر کے سامنے

Sunday, 1 December 2024

قید ہوئے جو لوگ اپنی من مانی میں

 قید ہوئے جو لوگ اپنی من مانی میں

دیکھ رہے ہیں دُشواری آسانی میں

علم صحیفہ کیا دے پڑھنے والوں کو

وقت تو گُزرا صرف ورق گردانی میں

آگ میں جھونکیں گے وہ اپنی محنت کو

رائی کی کھیتی جو کرتے ہیں پانی میں