کیا بجھاتا پیاس پیاسے کی دہانہ ریت کا
لے اڑا آبِ حقیقت ہر فسانہ ریت کا
نامرادی کے لیے ناداں بڑھا اس کی طرف
دور سے دیکھا جو عکسِ مشفقانہ ریت کا
آسماں نے لے لیا آغوش میں بحرِ سراب
اس زمیں پر تن گیا اک شامیانہ ریت کا
کیا بجھاتا پیاس پیاسے کی دہانہ ریت کا
لے اڑا آبِ حقیقت ہر فسانہ ریت کا
نامرادی کے لیے ناداں بڑھا اس کی طرف
دور سے دیکھا جو عکسِ مشفقانہ ریت کا
آسماں نے لے لیا آغوش میں بحرِ سراب
اس زمیں پر تن گیا اک شامیانہ ریت کا
ہم نے دیکھے عجب عجب گونگے
تھی زباں تو مگر تھے سب گونگے
کر شکایت نہ بے زبانوں کی
نطق والے ہوئے ہیں جب گونگے
حشر برپا ہے بیچ دریا میں
دونوں ساحل ہیں لب بہ لب گونگے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہی نہیں کہ تُوؐ آیا فقط عرب کے لیے
جہاں میں ذاتِ گرامی ہے تیری سب کے لیے
نگاہِ خالقِ ہستی میں سرخرو ہے وہی
وہ جس کے دل میں جگہ ہے تِرے ادب کے لیے
تیری ہی ذات ہے لیل و نہار کی تابش
تُو دن کے واسطے سورج ہے، چند شب کے لیے
دوست کوئی جو معتبر نہ رہا
اعتبار اپنے آپ پر نہ رہا
راہبر سے جو بے خبر نہ رہا
راہزن کا اسی کو ڈر نہ رہا
فصل آئی ہے جب سے پت جھڑ کی
سایہ والا کوئی شجر نہ رہا
دھوپ کی یورش نہ کیوں ہو بام و در کے سامنے
کاٹ ڈالا اس نے برگد تھا جو تھا گھر کے سامنے
آبلہ پائی سے ان کی پوچھیے حالِ سفر
ریت ہے تپتی ہوئی جن کی نظر کے سامنے
ہمسفر کو ہمسفر سے آس جو تھی، اٹھ گئی
کارواں لُوٹا گیا جب راہبر کے سامنے
قید ہوئے جو لوگ اپنی من مانی میں
دیکھ رہے ہیں دُشواری آسانی میں
علم صحیفہ کیا دے پڑھنے والوں کو
وقت تو گُزرا صرف ورق گردانی میں
آگ میں جھونکیں گے وہ اپنی محنت کو
رائی کی کھیتی جو کرتے ہیں پانی میں