کیا بجھاتا پیاس پیاسے کی دہانہ ریت کا
لے اڑا آبِ حقیقت ہر فسانہ ریت کا
نامرادی کے لیے ناداں بڑھا اس کی طرف
دور سے دیکھا جو عکسِ مشفقانہ ریت کا
آسماں نے لے لیا آغوش میں بحرِ سراب
اس زمیں پر تن گیا اک شامیانہ ریت کا
ہر طرف سے گھر کے بھی برسی نہیں کالی گھٹا
سبز وادی بن گئی آخر نشانہ ریت کا
دشت میں جو بھی تہِ دل سے کرے نادم تلاش
آبِ زمزم اس کو دیتا ہے خزانہ ریت کا
نادم بلخی
No comments:
Post a Comment