Thursday, 8 January 2026

رستے لپیٹ کر سبھی منزل پہ لائے ہیں

 رستے لپیٹ کر سبھی منزل پہ لائے ہیں

کھوئے سفر ہی باندھ کے ساحل پہ لائے ہیں

پہلے تو ڈھونڈ ڈھانڈ کے لائے وجود کو

اور پھر ہنکا کے ذات کو محمل پہ لائے ہیں

اٹھتی ہے ہر فرات میں اک موجِ اضطراب

جب بھی وہ کارواں رہ قاتل پہ لائے ہیں

ساحل کی ریت سے کبھی جس کی بنی نہیں

اس کو سمندروں کے مقابل میں پہ لائے ہیں

دل ڈر گیا تھا وصل کی حدت کو سوچ کر

اذنِ خیال کو رہِ کامل پہ لائے ہیں


سعید نقوی

No comments:

Post a Comment