رستے لپیٹ کر سبھی منزل پہ لائے ہیں
کھوئے سفر ہی باندھ کے ساحل پہ لائے ہیں
پہلے تو ڈھونڈ ڈھانڈ کے لائے وجود کو
اور پھر ہنکا کے ذات کو محمل پہ لائے ہیں
اٹھتی ہے ہر فرات میں اک موجِ اضطراب
جب بھی وہ کارواں رہ قاتل پہ لائے ہیں
ساحل کی ریت سے کبھی جس کی بنی نہیں
اس کو سمندروں کے مقابل میں پہ لائے ہیں
دل ڈر گیا تھا وصل کی حدت کو سوچ کر
اذنِ خیال کو رہِ کامل پہ لائے ہیں
سعید نقوی
No comments:
Post a Comment