Friday, 9 January 2026

ہم نے اس شہر میں جینے کا ہنر ضائع کیا

 ہم نے اس شہر میں جینے کا ہنر ضائع کیا

منزلیں ایسی ملی ہیں کہ سفر ضائع کیا

شعر بے ربطی افکار سے بوجھل ٹھہرے

ناز تھا جس پہ وہ اندازِ نظر ضائع کیا

تختۂ گل میں لہو رنگ ہے کانٹوں کی بہار

جانے کیا سوچ کے یہ خون جگر ضائع کیا

اپنی اُمیدوں کو خود آگ لگا دی ہم نے

دل میں برسوں سے جو پالا تھا شرر ضائع کیا

آپ کو راہگزر چاہیے تھی سو ہم نے

اپنے ہاتھوں سے بنایا ہوا گھر ضائع کیا


شاہد رضوی

No comments:

Post a Comment