تم
تم اگر زخم ہوتے
تو بھر جاتے کب کے
اگر رنج ہوتے
تو میں بھول جاتی
اگر پاپ ہوتے
تو دھو ڈالتی میں
کسی بہتی گنگا میں جا کے بہاتی
بُرائی جو ہوتے
تمہیں چھوڑ دیتی
اگر نشہ ہوتے
تمہیں ترک کرتی
میں منہ سے لگی
کوئی علت سمجھ کر
مگر تم تو تم ہو
نوشابہ حفیظ ہاشمی
No comments:
Post a Comment