Friday, 9 January 2026

تم اگر زخم ہوتے تو بھر جاتے

تم


تم اگر زخم ہوتے

تو بھر جاتے کب کے

اگر رنج ہوتے

تو میں بھول جاتی

اگر پاپ ہوتے

تو دھو ڈالتی میں

کسی بہتی گنگا میں جا کے بہاتی

بُرائی جو ہوتے

تمہیں چھوڑ دیتی

اگر نشہ ہوتے

تمہیں ترک کرتی

میں منہ سے لگی

کوئی علت سمجھ کر

مگر تم تو تم ہو


نوشابہ حفیظ ہاشمی


No comments:

Post a Comment