کوئی چپ رہ کے بھی اظہار مکمل کر دے
کوئی جب چاہے مجھے بول کے پاگل کر دے
جب مرا دل ہو میں صحرا کی حمایت کر دوں
اگر اک بار زمانہ مجھے بادل کر دے
اب تو اندر کی خموشی سے بھی خوف آتا ہے
یہ کسی دن نہ اچانک مجھے جنگل کر دے
یہ تو دنیا ہے اسے کس کی ضرورت پڑنی
یہ جسے سامنے لائے اسے اوجھل کر دے
وہ اگر آئے تو کہنا کہ نہیں ہوں گھر میں
یار وہ مل کے مجھے اور نہ بوجھل کر دے
اب تو شہزاد کوئی معجزہ وہ بھی شاید
جو طبیعت کو دوبارہ تِری چنچل کر دے
شہزاد مرزا
No comments:
Post a Comment