Sunday, 18 January 2026

کوئی چپ رہ کے بھی اظہار مکمل کر دے

 کوئی چپ رہ کے بھی اظہار مکمل کر دے

کوئی جب چاہے مجھے بول کے پاگل کر دے

جب مرا دل ہو میں صحرا کی حمایت کر دوں

اگر اک بار زمانہ مجھے بادل کر دے

اب تو اندر کی خموشی سے بھی خوف آتا ہے

یہ کسی دن نہ اچانک مجھے جنگل کر دے

یہ تو دنیا ہے اسے کس کی ضرورت پڑنی

یہ جسے سامنے لائے اسے اوجھل کر دے

وہ اگر آئے تو کہنا کہ نہیں ہوں گھر میں

یار وہ مل کے مجھے اور نہ بوجھل کر دے

اب تو شہزاد کوئی معجزہ وہ بھی شاید

جو طبیعت کو دوبارہ تِری چنچل کر دے


شہزاد مرزا

No comments:

Post a Comment