زعفرانی کلام
منہ پہ ہر شخص کے تالے ہیں خدا خیر کرے
چپ سبھی بولنے والے ہیں خدا خیر کرے
کیا کہیں ساس سسر سالیاں کوئی بھی نہیں
ساری سسرالوں میں سالے ہیں خدا خیر کرے
مرغ اور مچھلی کو چھونے سے جنہیں پاپ لگے
ان کے ہاتھوں میں بھی بھالے ہیں خدا خیر کرے
خوبیوں پر ہی نظر جس کی رہی ہے اس نے
مجھ میں سو عیب نکالے ہیں خدا خیر کرے
آنکھ سے آنکھ ملانے کی ہے ہمت کس میں
پاؤں سب چاٹنے والے ہیں خدا خیر کرے
توڑ کے کھوپڑی نیتاؤں کی دیکھی ہم نے
بس گھوٹالے ہی گھوٹالے ہیں خدا خیر کرے
ڈاڑھی والے ہوں وہ شوہر یا ہوں مونچھو والے
سارے بیوی کے حوالے ہیں خدا خیر کرے
میچ بچوں کا، ملا لیتے تو اچھا ہوتا
اس کے گورے مرے کالے ہیں خدا خیر کرے
اعلیٰ درجے کی ملی ہم کو ظرافت ان میں
جتنے سنجیدہ مقالے ہیں خدا خیر کرے
محمد احمد علوی
No comments:
Post a Comment