Thursday, 15 January 2026

لوگ ہلال شام سے بڑھ کر پل میں ماہ تمام ہوئے

 لوگ ہلال شام سے بڑھ کر پل میں ماہ تمام ہوئے

ہم ہر برج میں گھٹتے گھٹتے صبح تلک گمنام ہوئے

ان لوگوں کی بات کرو جو عشق میں خوش انجام ہوئے

نجد میں قیس یہاں پر انشاؔ خار ہوئے ناکام ہوئے

کس کا چمکتا چہرا لائیں کس سورج سے مانگیں دھوپ

گھور اندھیرا چھا جاتا ہے خلوت دل میں شام ہوئے

ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہے

ایک ہمیں ہشیار تھے یارو ایک ہمیں بد نام ہوئے

شوق کی آگ نفس کی گرمی گھٹتے گھٹتے سرد نہ ہو

چاہ کی راہ دکھا کر تم تو وقف دریچہ و بام ہوئے

ان سے بہار و باغ کی باتیں کر کے جی کو دکھانا کیا

جن کو ایک زمانہ گزرا کنج قفس میں رام ہوئے

انشا صاحب پو پھٹتی ہے تارے ڈوبے صبح ہوئی

بات تمہاری مان کے ہم تو شب بھر بے آرام ہوئے


ابن انشا

No comments:

Post a Comment