نہ میں رہا، نہ رہا وقت کا نشاں کوئی
وجود اوڑھ کے بیٹھا رہا گماں کوئی
میں دیکھتا ہی رہا دیکھنے کے ٹوٹنے کو
نہ آنکھ باقی رہی، اور نہ ہی جہاں کوئی
دھمال جاری ہے درگاہ پر ملنگوں کی
خدا کا بندہ ہے بندوں پہ مہرباں کوئی
میں آئینہ تھا، تماشہ بھی میں ہی تھا آخر
نظر کے سامنے ویسے بھی تھا کہاں کوئی
وہ ایک لمحے کو ٹھہرا تھا سانس لینے کو
سنانے والے سنائیں گے داستاں کوئی
یہ میں، یہ تُو، یہ انا، سب حجاب تھے ورنہ
نہ درمیان تھا پردہ، نہ درمیاں کوئی
نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم
یہ دائرہ ہے وہیں توڑتا جہاں کوئی
حقیقتوں کی تپش سے پگھل کے دیکھ لیا
نہیں ہے ماں سا زمانے میں سائباں کوئی
اُسے بھی میری طرح وہم تنگ کرتا تھا
قدم قدم پہ بدلتا رہا مکاں کوئی
ترے خیال کی شدت سے یاد آیا ہے
ابھی قریب سے گزرا ہے کارواں کوئی
سمیٹ لوں جو خوشی اتنا حوصلہ ہی نہیں
مجھے سمجھتا ہے اس درجہ رائگاں کوئی
میں خود کو دیکھ کے چونکا: یہ کون ہے مجھ میں
مرے وجود میں رہتا ہے ہم نشاں کوئی
سکوت ایسا کہ گویا کلام کرتا ہو
صدا سنائی دی جس کی نہیں زباں کوئی
خلش کی لہر سے بھگڈر مچی ہے چاروں سمت
مگر نہ ہاتھ لگا اس کا رازداں کوئی
عدم کی خاک سے اُبھرا تھا یہ وجود مگر
نہ اس میں رنگِ یقیں تھا، نہ بے گماں کوئی
خودی کے پردے نے رکھا ہمیں جدا ورنہ
نہ تُو وہاں تھا، نہ ہی میں، نہ تھا یہاں کوئی
حواس دھوکہ ہی دیتے رہے حقیقت کا
وجود خود نہ تھا پابندِ لامکاں کوئی
ہزاروں دوست ہیں عاطر مرے جہاں میں مگر
مجھے ملا ہی نہیں تجھ سا جان جاں کوئی
نیاز احمد عاطر
No comments:
Post a Comment