Wednesday, 21 January 2026

کیسے کر پائے کوئی منظر کشی معراج کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کیسے کر پائے کوئی، منظر کشی معراج کی

عقل کی حد میں نہیں، جلوہ گری معراج کی

میرِ محفل رب تھا اور شاہِؐ دنیٰ اُس کا چراغ

لا مکاں میں انجمن ایسی سجی معراج کی

عشق سے دیکھو تو ایمانی نظر ہو جائے تیز

پڑھ رہی ہے ہر جھلک نعتِ نبیؐ معراج کی

چاند تاروں کو ملا تھا پاؤں چھونے کا شرف

بانٹتے ہیں آج تک وہ روشنی معراج کی

آسمانوں کے سفر کی سوچ یوں پیدا ہوئی

آج دنیا کر رہی ہے، پیروی معراج کی

مصطفیٰﷺ کی آنکھ سے دیدارِ مولیٰ کر لیا

چشمِ موسیٰؑ کو چمک ایسی ملی معراج کی

رفعت و عظمت میں شاہِ دیںؐ کا ہمسر کون ہے

آج بھی آواز ہے یہ گونجتی معراج کی

مسجدِ اقصٰی کی وہ پُر کیف محفل دیکھیے

انبیاء نے بھی منائی ہے خوشی معراج کی

بندگی کا اک حسیں تحفہ ملا اِس رات میں

اہلِ ایماں پر نوازش ہے بڑی معراج کی

قُربِ مولیٰ چاہتے ہو تو پڑھو دائم نماز

مومنو! ہے یہ عبادت نسبتی معراج کی

رب کے آگے سر جھکانا رفعتوں کا ہے سفر

پنج وقتہ ملتی ہے لذت نئی معراج کی

عشق والے جی اٹھے اِس معجزے کو مان کر

ہر غلامِ عقل پر بجلی گری معراج کی

جب وہاں جاہی نہیں سکتے پرندے عقل کے

کیسے سمجھیں گے حقیقت، فلسفی معراج کی

سن رہی ہے وقت کی رفتار سانسیں تھام کر

ہے فریدی کے لبوں پر بات ابھی معراج کی


فریدی صدیقی مصباحی

No comments:

Post a Comment