Saturday, 17 January 2026

شب غم بھی آخر بسر ہو گئی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شبِ غم بھی آخر بسر ہو گئی

تڑپتے تڑپتے سحر ہو گئی

مدینہ کا دیدار مشکل نہیں

نگاہِ عنایت اگر ہو گئی

لیے قلبِ مضطر مدینہ میں پہنچا

تسلی زمیں چوم کر ہو گئی

نگاہیں فدا روضۂ پاکﷺ پر

جبیں عاشقِ سنگِ در ہو گئی

مواجہ میں عرضِ صلاۃ و سلام

مِری آبرو اس قدر ہو گئی


نعیم الدین مرادآبادی

No comments:

Post a Comment