Tuesday, 20 January 2026

اٹھ جائے درمیاں سے جو پردہ حجاب کا

 اٹھ جائے درمیاں سے جو پردہ حجاب کا

پڑھ لوں کتاب حسن سے مضمون خواب کا

اپنی نظر بھی ڈال دے ساقی شراب میں

دیکھے کوئی تو اس کو ہو دھوکا گلاب کا

ظاہر پہ کر نقاب تو باطن پہ کر نظر

مطلوب ہے نظارا جو اس بے نقاب کا

اس پر تمام کھل گئے ارض و سما کے راز

ہمراز ہو گیا جو تمہاری جناب کا

حسن و جمال عشق سے تھرا گئی فضا

جیسے گیا ہو چونک وجود آفتاب کا

ضو پائے جس سے عشق وہ جلوے بکھیر دے

فطرت میں رنگ بھرنا ہے مقصد شباب کا

اللہ رے تمتماتے سے چہرے کی آب و تاب

پھیکا پڑے ہے دیکھ کے رنگ آفتاب کا

عارض کے زیر و بم پہ نظر جم کے رہ گئی

میری نظر میں خاک تھا شعلہ عتاب کا

خادم کے عرض حال پہ کرتا ہے سو سوال

لڑنا ہے لا جواب سے اک لا جواب کا

رندوں میں ایک رند کنول بھی ہے دوستو

عاشق ہے ایسے دور میں حسن شراب کا


کنول سیالکوٹی

No comments:

Post a Comment