Saturday, 17 January 2026

کچھ زخم مری روح کے گہرے بھی بہت ہیں

 کچھ زخم مِری روح کے گہرے بھی بہت ہیں

کچھ دل پہ تِری یاد کے پہرے بھی بہت ہیں

کچھ دب گئی مظلوم کی آہ ہنسی میں

کچھ لوگ مِرے شہر کے بہرے بھی بہت ہیں

بہہ جائیں گے برسات میں، یہ دیکھتے رہنا

پلکوں پہ تِری خواب سنہرے بھی بہت ہیں

دیکھا نہ کوئی آپ سا ہم نے تو جہاں میں

نظروں میں رہے چاند سے چہرے بھی بہت ہیں

ہر چند کہ قانون کے پابند ہیں فائق

قسمت میں عدالت کے کٹہرے بھی بہت ہیں


شہباز رسول فائق

No comments:

Post a Comment