Sunday, 25 January 2026

کچھ تو ہونا چاہیے جو سلسلہ جاری رہے

 کچھ تو ہونا چاہیے جو سلسلہ جاری رہے

اک لمحہ زندگی کا ہم پہ کیوں بھاری رہے

آپ نے جب بھی بلایا ہم نے باتیں مان لیں

کیا برا ہے ایک دن تو آپ کی باری رہے

بن گئے محکوم ہم، ہم کو ہے بس ماننا

کام ہے یہ آپ کا فرمان اب جاری رہے

اس طرح بکتی رہیں گر آپ کی خود داریاں

صفحۂ ہستی سے مٹنے کی بھی تیاری رہے

ہر قدم پہ آپ کو احساس ہو جب بوجھ کا

پھر بھلا ممکن ہے کیسے تیز رفتاری رہے

جب ذرا سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں لوگ

کس طرح شمشاد پھر شعر و سخن جاری رہے


شمشاد حسین

No comments:

Post a Comment