کچھ تو ہونا چاہیے جو سلسلہ جاری رہے
اک لمحہ زندگی کا ہم پہ کیوں بھاری رہے
آپ نے جب بھی بلایا ہم نے باتیں مان لیں
کیا برا ہے ایک دن تو آپ کی باری رہے
بن گئے محکوم ہم، ہم کو ہے بس ماننا
کام ہے یہ آپ کا فرمان اب جاری رہے
اس طرح بکتی رہیں گر آپ کی خود داریاں
صفحۂ ہستی سے مٹنے کی بھی تیاری رہے
ہر قدم پہ آپ کو احساس ہو جب بوجھ کا
پھر بھلا ممکن ہے کیسے تیز رفتاری رہے
جب ذرا سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں لوگ
کس طرح شمشاد پھر شعر و سخن جاری رہے
شمشاد حسین
No comments:
Post a Comment