Sunday, 25 January 2026

زیر سایۂ گنبد رات کا بسیرا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زیرِ سایۂ گنبد رات کا بسیرا ہے

اور سنہری جالی سے رونما سویرا ہے

جا بجا مدینے میں حاجیوں کا ڈیرا ہے

مصطفٰیؐ کے کوچے میں سائلوں کا پھیرا ہے

رات بھی مدینے کی کتنی خلد منظر ہے

اک ذرا اُجالا ہے، اک ذرا اندھیرا ہے

طائروں کے جھُرمٹ میں وہ کَلَس کا نظّارہ

شمع کو پتنگوں نے ہر طرف سے گھیرا ہے

میری خوش نصیبی پر رشک آئے رضواں کو

مصطفٰیﷺ اگر کہہ دیں یہ غلام میرا ہے

نور کے سمندر میں غرق ہیں مہ و انجم

جب سے ماہِ طیبہ نے چاندنی بکھیرا ہے

رات بھی مدینے کی دن سے کم نہیں اجمل

شام بھی مدینے کی خوش نما سویرا ہے


اجمل سلطانپوری

No comments:

Post a Comment