آج تک اہل زر نہیں بدلے
خود نگر کم نظر نہیں بدلے
راستے پر خطر نہیں بدلے
ہم نے خود جان کر نہیں بدلے
دور تعمیر نو کہیں کیسے
جب یہ دیوار و در نہیں بدلے
خوشبوئیں ساتھ ہیں ہواؤں کے
تیرے پیغام بر نہیں بدلے
تیرے غم نے بدل دیا تھا جنہیں
پھر وہ دیوار و در نہیں بدلے
موسم تر کا کچھ قصور نہیں
خود ہی سوکھے شجر نہیں بدلے
مدتوں سے ہے ایک ہی نہیں بدلےموسم
میرے شام و سحر نہیں بدلے
رفیع بدایونی
رفیع بخش قادری
No comments:
Post a Comment