Tuesday, 13 January 2026

آج تک اہل زر نہیں بدلے

 آج تک اہل زر نہیں بدلے

خود نگر کم نظر نہیں بدلے

راستے پر خطر نہیں بدلے

ہم نے خود جان کر نہیں بدلے

دور تعمیر نو کہیں کیسے

جب یہ دیوار و در نہیں بدلے

خوشبوئیں ساتھ ہیں ہواؤں کے

تیرے پیغام بر نہیں بدلے

تیرے غم نے بدل دیا تھا جنہیں

پھر وہ دیوار و در نہیں بدلے

موسم تر کا کچھ قصور نہیں

خود ہی سوکھے شجر نہیں بدلے

مدتوں سے ہے ایک ہی  نہیں بدلےموسم

میرے شام و سحر نہیں بدلے


رفیع بدایونی

رفیع بخش قادری

No comments:

Post a Comment