یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے
فقط اب دن گزارا جا رہا ہے
بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے
بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے
ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت
یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے
غضب لاشوں پہ کرتے رقص ہیں جو
وہ کہتے ہیں مدارا جا رہا ہے
ہوا دیدار مرتے وقت ہمدم
تِرا پونم خسارہ جا رہا ہے
پونم سونچھاترا
No comments:
Post a Comment