Tuesday, 27 January 2026

یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے

 یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے

فقط اب دن گزارا جا رہا ہے

بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے

بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے

ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت

یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے

غضب لاشوں پہ کرتے رقص ہیں جو

وہ کہتے ہیں مدارا جا رہا ہے

ہوا دیدار مرتے وقت ہمدم

تِرا پونم خسارہ جا رہا ہے


پونم سونچھاترا

No comments:

Post a Comment