Monday, 19 January 2026

اسلاف کا سرمایۂ فن چھوڑ چکے ہیں

 اسلاف کا سرمایۂ فن چھوڑ چکے ہیں

جس پہ نہیں مُہر وہ دھن چھوڑ چکے ہیں

کب تک تجھے اوڑھے رہیں اے قدرِ زمانہ

ہم اپنا یہ بوسیدہ کفن چھوڑ چکے ہیں

صحرا میں کہیں تُو بھی ملا تھا یہ نہیں یاد

رستے میں کئی دشت و دمن چھوڑ چکے ہیں

اک مسئلہ ہے؛ قتل کریں یا ہمیں پوجیں

اغیار کے ماتھے پہ شکن چھوڑ چکے ہیں

ہم بُوئے صبا بن کے چمن سے نکل آئے

سوتے ہوئے ہر سر و سمن چھوڑ چکے ہیں

آ جاتے ہی ہم زد میں مگر پیشتر اس کے

ڈھتے ہوئے ارکانِ سخن چھوڑ چکے ہیں


محمود اقبال کاظم

No comments:

Post a Comment