راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی
میرے دل میں برف صورت تھی محبت دھوپ کی
مجھ کو تو صحرا کے سینے پر اتارا ابر نے
کس لیے مجھ کو پڑی تھی پھر ضرورت دھوپ کی
شام کے سائے نے پر کھولے تو ظلمت چھا گئی
بعد مدت کے نظر آئی تھی صورت دھوپ کی
ٹوٹ کر جب بھی گرے گا آسماں سے آفتاب
خاک میں مل جائے گی از خود یہ شہرت دھوپ کی
جوں ہی کھولی آنکھ سورج نے تو بادل آ گئے
چند لمحوں کے لیے چمکی تھی قسمت دھوپ کی
ساغر مشہدی
No comments:
Post a Comment