Saturday, 24 January 2026

راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی

 راس آئی جب تلک مجھ کو نہ شدت دھوپ کی

میرے دل میں برف صورت تھی محبت دھوپ کی

مجھ کو تو صحرا کے سینے پر اتارا ابر نے

کس لیے مجھ کو پڑی تھی پھر ضرورت دھوپ کی

شام کے سائے نے پر کھولے تو ظلمت چھا گئی

بعد مدت کے نظر آئی تھی صورت دھوپ کی

ٹوٹ کر جب بھی گرے گا آسماں سے آفتاب

خاک میں مل جائے گی از خود یہ شہرت دھوپ کی

جوں ہی کھولی آنکھ سورج نے تو بادل آ گئے

چند لمحوں کے لیے چمکی تھی قسمت دھوپ کی


ساغر مشہدی

No comments:

Post a Comment