مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے
دنیا تو چل رہی ہے بس اپنے حساب سے
وہ بے نیاز پھر بھی مخاطب نہیں ہوا
ہم نے اسے پکارا ہے کس کس خطاب سے
خود بے نقاب ہو کے سرِ بزم آ گئے
سب کو یہی امید تھی اک بے حجاب سے
بوچھار ہو رہی ہے سوالوں کی دیکھیے
سب کو جواب چاپیے اک لاجواب سے
تنہائیاں بڑھیں تو وہ محفل میں آ گئے
مطلب انہیں کہاں کسی حسن و شباب سے
شمشاد سے گلہ ہے یہ موسم کو دیکھیے
بدلا مزاج کیوں نہیں اس کے حساب سے
شمشاد حسین
No comments:
Post a Comment