Tuesday, 27 January 2026

منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے

منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے

آنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہے

آنگن آنگن آگ اگائی جا سکتی ہے

کمروں میں دریا کا کنارا جا سکتا ہے

کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میں

ان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے

بوندوں میں آئنے گھولے جا سکتے ہیں

چادر تن میں سفر گزارا جا سکتا ہے

جسم و دل کی ٹھن جانے پر یاد رکھو

جسم کو جیتو دل تو ہارا جا سکتا ہے

جس بستی کے راشن گھر میں خون بنٹے

وہاں فقط لاشوں کو سنوارا جا سکتا ہے

جس آنگن کی سانولیاں روٹی جیتیں

اس کے توے پر چاند اتارا جا سکتا ہے

آتشداں کا سینہ ٹھنڈا ہو سکتا ہے

برف کا ٹکڑا بن کے شرارہ جا سکتا ہے


اسامہ ذاکر 

No comments:

Post a Comment